ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

یوم تکبیر: جب پاکستان مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر ابھرا

datetime 28  مئی‬‮  2021 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) 23سال قبل 28مئی 1998ءکو بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا بلکہ مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا جسے ہر سال یوم تکبیر کے نام سے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے

ایٹمی صلاحیت میں مسلسل ترقی کی جو اس کے دشمنوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی کوششوں کا آغاز 1974ءمیں بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد کیا اور پھر 28مئی 1998ءمیں پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایٹمی دھماکے کر کے باقاعدہ طور پر ایک ایٹمی صلاحیت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے پاکستان کو عالمی پابندیوں کو سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان نے دنیا خود کو دنیا بھر میں ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر منوایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنسدانوں نے سنہ 1984 میں جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔مئی 1998 میں جب ہندوستان نے جوہری تجربات کیے تو پاکستان کے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرے اور یوں پاکستان بھی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیا۔پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے سائنسدانوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے 28 مئی 1998ءکو بھارت کی جانب سے کئے گئے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں عالم اقوام اور یہود و ہنود کا ہر قسم کا دبا ئوبالائے طاق رکھتے ہوئے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں چاغی کے مقام پر یکے بعد دیگرے 7 ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو امت مسلمہ کی پہلی اور عالم اقوام کی ساتویں ایٹمی قوت بنا دیا۔ 28مئی کو یوم تکبیر کا نام دیا گیا اور پھر ہر سال اسے بھرپور طریقے سے بنایا جاتا ہے، ملک بھر میں اس حوالے سے خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے اور مساجد میں پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…