کورونا وائرس کا خوف ،سرجیکل ماسک کی فروخت اور قیمت میں اضافہ 100 روپے والے ڈبے کی قیمت 500سے 1000 روپے تک پہنچ گئی

  منگل‬‮ 11 مئی‬‮‬‮ 2021  |  17:43

سکھر(این این آئی)کورونا وائرس کا خوف ،سرجیکل ماسک کی فروخت اور قیمت میں اضافہ، مارکیٹ میں 100 روپے والے ڈبے کے ماسک کی قیمت 500سے 1000 روپے تک پہنچ گئی تفصیلات کے مطابق ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد سکھر سمیت اندرون سندھکے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کا خوف پھیلا ہوا ہے وہی کوروناسے بچاؤ کے سلسلے میں سرجیکل ماسک سمیت دیگر جراثیم کش اشیائ کی فروخت اور قیمتوں میں بھی دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے کورونا وائرس کا خطرہ بڑھتے ہی سکھر میں بھی سرجیکل ماسک نایاب ہوگئے، مارکیٹ میں 100 روپے والے ڈبے کے ماسک


کی قیمت 500سے 1000 روپے تک پہنچ گئی،جبکہ دوسری جانب روزگار کے حصول کیلئے شہریوں نے بھی سرکاری دفاتر کے باہر اور سڑکوں پر بھی ماسک فروخت کرنا شروع کردیا ہے اطلاع کے مطابق شہر کے میڈیکل اسٹوروں پربھی ماسک ختم ہوگئے اور سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں میں بھی ماسک دستیاب نہیں ہے۔دوسری جانب سکھر میں کورونا نے مزید ایک اور زندگی چھین لی ،ایک ہفتے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ،میت کو ایس او پیز کے تحت ورثاء کے حوالے تفصیلات کے مطابق سکھرمیں کورونا نے مزید ایک زندگی چھین لی ہے گذشتہ روز سکھرسول اسپتال کے کوورڈ آئیسولیشنوارڈ میں زیر علاج ٹکر محلہ چاند مسجد سکھر کی رہائشی 61 سالہ شاھین زوجہ محمد محبوب آرائین فوت ہوگی ہے جسے ایدھی سکھر کے رضاکاروں نے ورثائ کے ساتھ مل کر ایس اوپیز کے تحت میت تدفین کے لئیے ایدھی ایمبولینس کے زریعے ٹکر محلہ چاند مسجد سکھر پہنچایا واضع رہے کہ سول اسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے ،سکھر میں ہونی والی کورونا و مشتبہ کورونا میں جانبحق ہونے والے افراد کی تعداد 15ہوگئی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎