پاکستان کی پوری آبادی کو جلد از جلد رجسٹر کرنے کی ہدایات جاری

  جمعرات‬‮ 6 مئی‬‮‬‮ 2021  |  23:57

اسلام آباد(این این آئی) وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے قائمقام چیئر مین نادرا کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کی پوری آبادی کو جلد از جلد رجسٹر کیا جائے۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی زیر صدارت نادرا امور کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں چیئرمین نادرا کی طرف سے اوور سیز پاکستانیوں کو دی جانے والی سہولیات کے حوالے سےبریفننگ دی ۔ شیخ رشید احمد نے کہاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ شیخ رشید احمد نے قائمقام چیئر مین کو ہدایت کی کہ پاکستان کی پوری آبادی کو جلد از جلد رجسٹر کیا


جائے۔ شیخ رشیدا حمد نے کہاکہ سروسز کی فراہمی میں کوئی غفلت یا کوتائی برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق نادرا اور پاسپورٹ عملے کو سہولیات مزید بہتر بنانے کے حوالے سے احکامات جاری کئے گئے ۔ شیخ رشیداحمد نے کہ اکہ ای ویزہ کی طرز پر آن لائن سہولیات کو مزید فروغ دیا جائے،بیرون ملک سفارت خانوں میں عملے سروسز سے متعلق تربیت دی جائے۔ شیخ رشید احمد نے کہاکہ نادرا کی طرف سے وراثت نامے کی دستاویز جاری کرنے کی سہولت کو مزید وسعت دی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ دائرہ کار پورے پاکستان تک بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر پر نادرا سینٹرز کے قیام کو رواں سال یقینی بنایا جائے۔قائمقام چیئر مین نادرا نے کہاکہ روزانہ ایک لاکھ شناختی کارڈ جاری کر رہے ہیں، احساس پروگرام اور کرونا ویکسینیشن میں معاونت کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ملک کی ستر فیصد آبادی کو رجسٹرڈ کر چکے ہیں۔باقی کے لئے اقدامات جاری ہیں۔اجلاس میں سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر سمیت نادرا کے اعلی حکام نے شرکت کی ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎