جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی وجہ سے ہمارا ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں اور ان کی وجہ سے آج ملک چل رہا ہے،اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی وجہ سے ہمارا ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ،ہمارے سفارتخانے اپنے سمندر پار پاکستانیوں سے انتہائی برا رویہ اپناتے ہیں لیکن میں بتا دوں کہ اس طرح ہم

نہیں چل سکتے،سفارتخانوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔دنیا بھر میں تعینات پاکستانی سفرا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں اس جانب اتنی توجہ نہیں دے سکا جتنی مجھے دینی چاہیے تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اقتدار میں آنے کے بعد وزارت خارجہ کو رہنمائی بھی دی کہ ہم نے سمند پار پاکستانیوں کے لیے کیا کیا چیزیں کرنی ہیں کیونکہ وہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں اور ان کی وجہ سے ہی پاکستان اب تک چل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی وجہ سے ہی ہمارا ملک اب تک دیوالیہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ میں انگلینڈ میں کھیلنے کے لیے گیا تھا اس لیے مجھے انداز ہے کہ ہمارے سفارتخانوں کا رویہ کیا ہوتا ہے لہذا جب میں وزیراعظم بنا تو میں سب سے بڑی خواہش بنے کہ ہمارے سفارتخانوں میں عوام سے سمندر پار پاکستانیوں سے روا رکھے جانے والا رویہ بدلے۔انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے اور پوش لوگوں سے ہمارے سفارتخانوں کا رویہ اچھا رہتا ہے لیکن نچلے طبقے کو ہمیشہ بڑے مسائل کا سامنا رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 70 اور 80 کی دہائی میں انگلینڈ میں ہمارے سفیروں اور سفارتخانے کے عملے کا مزدور طبقے سے رویہ بہت خراب ہوتا تھا، مزدور کی توقعات تو اپنی سفارتخانے سے ہی وابستہ ہوتی تھیں لیکن کچھ سفیروں اور اہلکاروں کا

رویہ بہت برا ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے سعودی عرب سے شکایات آنا شروع ہوئیں، ڈیڑھ سال سے ہمارے محنت کش لوگوں کی شکایات آ رہی تھیں کہ سفارتخانہ کوئی جواب نہیں دیتا اور اس کے بعد ایک دو واقعات ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ میرا جن پاکستانیوں سے زیادہ رابطہ رہا ہے ان سے میں نے کہا کہ مجھے سعودی عرب میں

پاکستانی سفارتخانے کے حوالے سے رائے دیں تو انہوں نے جو رائے دی اس سے بہت بڑا دھچکا لگا کہ عوام کی کوئی پروا نہیں، کوئی سروسز فراہم نہیں کی جا رہیں جبکہ ہمارے سٹیزن پورٹل پر بھی شکایات دیکھیں جو بالکل یکساں تھیں۔انہوں نے کہا کہ شکایات اس بات کی شاہد ہیں کہ ہمارے سفارتخانے اپنے سمندر پار پاکستانیوں سے

انتہائی برا رویہ اپناتے ہیں لیکن میں بتا دوں کہ اس طرح ہم نہیں چل سکتے۔عمران خان نے کہا کہ انگریزوں کا پرانا کالونیوں کا نظام تو اس طرح چل سکتا ہے لیکن موجودہ پاکستان میں یہ نظام نہیں چل سکتا، سفارتخانے کا کام اپنے لوگوں کو سروسز فراہم کرنا ہے اور اس کے بعد ان کی پوری کوشش اپنے ملک میں سرمایہ لانے کی ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…