جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں واپسی کی خواہشمند،جسٹس فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کے بعد عمران خان اور عارف علوی کے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں،مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ

datetime 30  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اتحاد میں واپسی کی خواہشمند ہے اور اس کیلئے اتحاد کے دروازے کھلے ہیں،اپوزیشن جماعتوں نے میرا اسمبلیوں سے حلف نا لینے کا مطالبہ نا مان کر اپنا نقصان کیا۔جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا

فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن استعفوں پر تیار نہیں ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے میرا اسمبلیوں سے حلف نا لینے کا مطالبہ نا مان کر اپنا نقصان کیا، اگر اپوزیشن ارکان کچھ عرصیحلف نا اٹھاتے تو معاملات کی نوعیت کچھ اور ہوتی۔ انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے پی ڈی ایم سے استعفے منظور نہیں کیے، پیپلز پارٹی اتحاد میں واپسی کی خواہشمند ہے، لیکن ہماری شرط پر سوچ بچار کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے لیے اتحاد میں شمولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں، اگر پیپلز پارٹی ہمارا مؤقف تسلیم کر لے تو ہم سینیٹ میں ان کے اپوزیشن لیڈر کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اے این پی بھی باپ سے ووٹ لینے پر پیپلز پارٹی سے ناراض ہے، اے این پی کی قیادت کو کسی دبائو کی وجہ سے اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرنا پڑا۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے لیے اتحاد کے دروازے کھلے ہیں، جو ہم نے وضاحت طلب کی تھی وہ دے دیں تو معاملات آگے چل پڑیں گے۔انہوںنے کہاکہ اتحاد برقرار ہے اور عید کے بعد اس کا سربراہی اجلاس بلایا جائے گا، پی ڈی ایم میں اب ن لیگ کی قیادت شہباز شریف کریں گے، عید کے بعد بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں ان ہائوس تبدیلی کا کوئی آپشن نہیں، انتخابی اصلاحات کے لیے ایسی قومی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جس میں اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہو۔ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کے بعد عمران خان اور عارف علوی کے رہنے کا کوئی اخلاقی

جواز نہیں۔انہوںنے کہاکہ ماضی میں جب ملک کی معیشت مضبوط تھی تو واجپائی بس میں بیٹھ کر لاہور آئے تھے، کمزور معیشت کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر پر ہمارا موقف تحلیل ہو رہا ہے۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ کشمیر کے معاملے میں ہم بہت کمزور پوزیشن پر کھڑے ہیں، اس صورتِ حال سے نکلنے کیلئے ہمیں مفاہمت سے راستہ بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہماری فوج کے پاس لڑنے کی بے پناہ طاقت موجود ہے تو ہمارے لیے یہ خوشی کی بات ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…