جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ہم 24 گھنٹے بھی دشمن سے جنگ لڑنے کے قابل نہیں، مولانا فضل الرحمان

datetime 28  اپریل‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ رمضان شریف کے بعد ہم پہلے سے بہتر طاقت کے ساتھ میدان میں ہونگے،جب بالکل تنہا تھے تب بھی پورے ملک کی سیاست پر چھائے ہوئے تھے،اب بھی اگر کوئی اکا دکا ادھر ادھر ہوجائے تو پرواہ نہیں کرنی چاہیے،قوم کے ساتھ جھوٹ بولا

جارہا ہے کہ ہندستان بات کرنا چاہتا ہے،حقیقت میں ہماری پوزیشن کمزور ہوتی جارہی ہے، ہم ترلے کررہے ہیں،حکمرانوں میں معاملات چلانے کی صلاحیت ہی نہیں۔ پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گا پر ختم قرآن پاک کی تقریب کے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے بھی میدان میں تھے، اب بھی ہیں اور آگے بھی میدان میں رہیں گے،رمضان شریف کے بعد ہم پہلے سے بہتر طاقت کے ساتھ میدان میں ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ ہم جب بالکل تنہا تھے تب بھی پورے ملک کی سیاست پر چھائے ہوئے تھے،اب بھی اگر کوئی اکا دکا ادھر ادھر ہوجائے تو پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ آج کشمیر کا سودہ کرکے کشمیریوں کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے،قوم کے مستقبل کے فیصلے منافقت کے ساتھ اور چوری چھپے کئے جارہے ہیں،آج ملکی معیشت کو تباہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تباہی کا عالم یہ ہے کہ ہم آج دشمن کے ساتھ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہے،آج ہم ہر مسئلے پر مفاہمت کے راستے ڈھونڈھ رہے ہیں،اسی مفاہمت کی بنیاد پر قوم کے فیصلے کئے جارہے ہیں اور پھر ان تمام فیصلوں کی کالک پارلیمنٹ کے ماتھے پر ملیں گے۔ انہوں نے کہاکہ قوم کے ساتھ جھوٹ بولا جارہا ہے کہ ہندستان بات کرنا چاہتا ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری پوزیشن کمزور ہوتی جارہی ہے اور

ہم ترلے کررہے ہیں،ہم چوبیس گھنٹے تک بھی جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہیں،کمزور ہونے کی وجہ سے ہم بھارت کے ساتھ مفاہمت کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رمضان کے بعد پوری جماعت کو بلاکر اس صورتحال سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں میں معاملات چلانے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، یہاں سیاست ہی ختم ہوچکی

ہے،ہمیں ایسی قیادت کو آگے لانا ہوگا جس پر قوم اعتماد کرے۔ انہوں نے کہاکہ اگر آپ آئین اور قانون کی بات کرتے ہو تو اس کے تقاضے بھی پورے کرنے پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معاملات میں دھاندھلی، بے ایمانی اور زور زبردستی نہیں چلے گی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے حلف اور عہد کی پاسداری کے تحت معاملات کو چلانا

ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے تھوڑی سی اشاروں کنایوں میں بات کہہ دی ہے، امید ہے جہاں پہنچنی چاہیے وہاں پہنچ جائے گی،ہم ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں، آپ چوری چھپے قوم سے دھوکہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہاکہ لوگ پاگل ہوئے ہوئے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرو،اسرائیل تو تمہارا بعد میں ہے، پہلے تم فلسطین کو تو تسلیم

کرو،ہمیں باہمی اعتماد کے ساتھ ملکی معاملات بہتر کرنے ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کوئی اسلحہ نہیں اٹھایا ہو، نہ ہی ہمارا ایسا نظریہ ہے،علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہم نے ملک کے آئین کے ساتھ چلنا ہے،ملک پر پنجے گاڑے ہوئی مقتدر قوتوں کو بھی اسی طرز عمل کا احترام کرنا ہوگا،اگر احترام نہیں ہوگا تو پھر معاملات بگڑ سکتے ہیں، جن کو شاید کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ معاملات بہتر بنائے جاسکیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…