جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ہم تمام ٹرائل اور سزائے موت کی چکیاں بھگت چکے اب سلیکٹڈ حکمرانوں کی باری ہے جو جہانگیر ترین سے شروع ہو گی، ن لیگ کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 22  اپریل‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن )کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ عمران خان کی اصلیت قوم جان چکی ہے ،ہم تمام ٹرائل اور سزائے موت کی چکیاں بھگت چکے اب سلیکٹڈ حکمرانوں کی باری ہے جو جہانگیر ترین سے شروع ہو گی ،جج اپوئنٹ نہ ہونے کے باوجود شہباز شریف کو ہر پیشی پر لایا جاتا ہے ،اگر قانون اور اخلاقیات کا درس ہمیں پی ٹی آئی والوں نے

دینا ہے تو بغیر قانون والے ہی اچھے ہیں ،کیا موجودہ وزیراعظم کو اپنا ماضی یاد نہیں؟؟؟ انہوں نے پارلیمان پر حملہ کیا اور لعن طعن کیا، سول نافرمانی کی کال دے چکے ،شاید خاقان عباسی نے جذبات میں آ کر پارلیمان میں ایسا کیا جس کی وہ معذرت بھی کر چکے ہیں۔ان خیالات کااظہار مریم اورنگزیب نے عظمی بخاری کے ہمراہ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ عمران خان کی جعلی ہائوسنگ اور فلیٹ اسکیم کا اعلان کررہے ہیں ،عمران خان نے عوام کے ساتھ بڑا جھوٹ یہ بولا کہ قرضہ لیکر گھر بنائو ،عمران نے خطاب میں کہا کہ طاقت وار کا احتساب بہت ضروری ہے ،عمران خان نے درست کہا مگر چینی ادویات مہنگائی کرنے والوں کو کیوں نا پوچھا ،عمران خان کے اردگرد چور ہی بیٹھے ہیں ،عمران خان طاقت وار کو اصل تحفظ دینے والا ہے ۔انہوںنے کہاکہ عوام کے سامنے حقائق سامنے آنے چاہیے ۔لیگی رہنمائوں کو جیلوں میں اذیت دی گئی ۔مریم نواز واش روم کے ساتھ نماز ادا کرتی تھی ۔اس ملک میں حکمران دن رات صرف اور صرف جھوٹ ہی بولتے ہیں ۔بینکوں سے قرضہ دے کر عوام کے پیسوں سے عوام کو مکان دینے سے 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ پورا نہیں ہو گا۔طاقتور کی سہولت کاری ملک کا وزیراعظم کرے گا تو وہ طاقتور کبھی قانون کے نیچے نہیں آئے گا جو وزیراعظم کے اطراف بیٹھا ہے ۔عمران خان کے دستخط کے وجہ سے چینی 52 سے 120 روپے فی کلو ہوئی ،آپ طاقتور مافیا کو قانون کے نیچے لانے کی

ہمت نہیں رکھتے کیونکہ وہ اے ٹی ایم ہیں جو آپ کا خرچہ اٹھاتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ مریم نواز سمیت تمام لیگی رہنمائوں کو سزائے موت کی چکی میں رکھا گیا،اگر ابھی بھی آپ کی ذہنی تسکین نہیں ہوئی تو بنی گالہ میں جیلیں بنائیں اور انہیں جیسے مرضی وہاں رکھ لیں ۔مریم نواز نے بی کلاس لینے کے لئے درخواست تک نہیں دی تھی ۔عوام کو ریلیف دینے والے تمام افراد کو آپ نے سزائے موت کی چکیوں میں رکھا ۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کی اصلیت قوم جان چکی ہے ۔فارن فنڈنگ کیس والے نے ہنڈی کے

ذریعے پیسہ ملک بھجوانے کا کہا ۔عمران خان ہمیں بھاشن نہ دیں ،عمران خان نے سپریم کورٹ کو خود خط لکھ کر تحقیقات کرانے کا کہا تھا ۔انہوںنے کہاکہ 8 سال سے خیبرپختونخوا میں احتساب کمیشن بند ہے ۔ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے ہمارے لئے تمغے ہیں ،ان کے پاس کسی چوری یا منی لانڈرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہے ،ہم تمام ٹرائل اور سزائے موت کی چکیاں بھگت چکے اب آپ کی

باری ہے جو جہانگیر ترین سے شروع ہو گی ۔نواز شریف فیصلے کرتا تھا تو ملک ترقی کی جانب گامزن تھا، چینی و آٹا سستا تھا،نواز شریف جیسی ملک کی ترقی کے لئے آر ٹی ایس کو نہیں بٹھانا ہو گا۔عظمی بخاری نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جج اپوئنٹ نہ ہونے کے باوجود شہباز شریف کو ہر پیشی پر لایا جاتا ہے ،اگر قانون اور اخلاقیات کا درس ہمیں پی ٹی آئی والوں نے دینا ہے تو بغیر قانون والے ہی

اچھے ہیں ،کیا موجودہ وزیراعظم کو اپنا ماضی یاد نہیں؟؟؟ انہوں نے پارلیمان پر حملہ کیا اور لعن طعن کیا، سول نافرمانی کی کال دے چکے ۔آر ٹی ایس بند نہ ہوتا تو صداقت عباسی کبھی الیکشن نہ جیت سکتے، وہ شاید خاقان عباسی سے معافی کا مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں ۔شاہد خاقان عباسی نے جذبات میں آ کر پارلیمان میں ایسا کیا جس کی وہ معذرت بھی کر چکے ہیں ۔موجودہ حکمرانوں کا قوم سے معافی مانگنے کا وقت آ چکا ہے ۔امت مسلمہ کا اتنا بڑا لیڈر بننے والا کل پارلیمان میں کیوں نہیں آیا؟؟؟،پرائیویٹ ممبر کے طور پر قرارداد پیش کرنے والے امجد علی خان کا فرانسیسی سفیر سے کیا ذاتی لین دین کا معاملہ ہے؟؟؟۔اپوزیشن نے اس معاملے پر آگ پر تیل نہیں چھڑکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…