جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’نبی پاکﷺ سے جو تعلق عمران خان کا ہے، وہ کسی مولوی یا پیر کا بھی نہیں‎‘‘

datetime 20  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ پاکستان حضور نبی پاکﷺ کے فیضان سے وجود میں آیا، حضور ﷺ سے جو تعلق عمران خان کا ہے، وہ کسی مولوی یا پیر کا نہیںاور کوئی اسے چیلنج نہیں کر سکتا۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قرارداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایک تنظیم کے لوگ

سڑکوں پر نکل آئے، کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے ان کا ساتھ دیا۔نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے طور پر ہم سب کا یہ فریضہ ہے کہ ان کا موقف سنا جائے اور ایک ایسا راستہ اختیار کیا جائے جہاں خون بہانے کی بجائے معاملات ایوان میں طے کئے جا سکیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد اس ارادے، سوچ اور فکر کی آئینہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت پر اللہ کا فرمان ہے کہ نبی ﷺ کی ذات اور شخصیت تمام اہل ایمان کی جانوں سے بڑھ کر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جس کو مجھ سے محبت اپنے والدین اور اولاد سے بڑھ کر نہ ہو۔پیر نور الحق قادری نے کہا کہ قائداعظم بھی سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ یہ ہاؤس ختم نبوت کا کسٹوڈین ہے۔ ناموس رسالت ﷺ کا محافظ ہمارا آئین ہے اور اس آئین کی تشکیل کے لئے ذوالفقار علی بھٹو اور مولانا مفتی محمود سمیت دیگر اکابرین نے گراں قدر کردار ادا کیا۔ عمران خان نے او آئی سی، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ناموس رسالت کا معاملہ اٹھایا۔ اس حوالے سے اور بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حضور ﷺ کی ناموس کے لئے سفارتی اور اکیڈمک سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ممتاز قادری کو جب پھانسی دی جا رہی تھی فیض آیاد میں 22 لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ یہ لوگ بھی نعرے لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدینہ شریف میں ننگے پیر کوئی اور نہیں چلا، عمران خان چلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے حال ہی میں 28 ارب روپے مالیت کے رحمت اللعالمین وظائف کا اجراءکیا۔ یہ حضور پاکﷺ سے ان کی محبت کا واضح ثبوت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…