جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نیب تفتیشی نہیں انتقامی ادارہ بن چکا،رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم پر نیب کو کنٹرول کرنے کا الزام عائد کر دیا

datetime 15  اپریل‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی ) مسلم لیگ (ن) کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نیب تفتیشی نہیں انتقامی ادارہ بن چکا، وزیراعظم اور شہزاد اکبر نیب کو کنٹرول کر رہے ہیں، شہباز شریف پر ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت نہ ہوسکی۔رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب پنجاب کے ایک بھی منصوبے میں شہباز شریف پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں کرسکا، 3 سال سے روا رکھے جانیوالا ظلم اب مٹے گا، آٹا، چینی چوروں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی، نااہل ٹولے سے چھٹکارا پانا ناگزیر ہوچکا، حکومت نے قوم کا اخلاق اور

سیاسی روایات بھی چوری کیں، اس ٹولے کو ہر قیمت پر ملک سے دور ہونا چاہیے۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے نیک نیت سے پنجاب کی خدمت کی، انہوں نے عمر کے اس حصے میں اور کینسر کے مریض ہوتے ہوئے 7 سال قید میں گزارے، معاشرہ اس انصاف کی وجہ سے قائم ہے جو مل رہا ہے، تاخیر سے انصاف ملا پھر بھی ہم شکر ادا کرتے ہیں، اگر عدلیہ موجود نہ ہو تو معاشرہ افراتفری کا شکار ہو جائے، آج مسلم لیگ (ن)، نواز شریف اور شہباز شریف کا بیانیہ سرخرو ہوا ہے، اب ظلم کے مٹنے کا وقت آ چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…