”22 کروڑ عوام کا ڈیٹا خطرے میں پڑ گیا“فراڈ کے الزام میں بلیک لسٹ امریکی شہری کو چیئرمین نادرا لگانے کا فیصلہ، اہم وفاقی وزیر کے کہنے پر میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں

  پیر‬‮ 12 اپریل‬‮ 2021  |  18:06

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا ڈیٹا خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ حکومت ایک ایسے شخص کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا چیئرمین لگانے جارہی ہے جو کہ امریکی شہری ہے اور اسے فراڈ کے الزام میں بلیک لسٹ بھی قرار دیا جا چکا ہے لیکن وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پارپاکستانیز زلفی بخاری اس کے سب سے بڑے سفارشی ہیں اور انہی کی سفارش پر میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سمری میں بھی تبدیلی کر دی گئی اور بلیک لسٹ سہیل منیر کا نام سمری میں سرفہرست رکھا گیا حالانکہ


وزارت داخلہ کی سمری میں ان کا نام تک نہیں تھا اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اس سارے معاملے میں بے بس نظر آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شفافیت اور میرٹ کا دعوی کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خود ہی میرٹ کی دھجیاں اڑانا شروع کردی ہیں اور ایک ایسے شخص کو خلاف قواعد چیئرمین نادرا لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس نے درخواست ہی نہیں دی تھی اور اس شخص کی کمپنی پہلے ہی بلیک لسٹڈ ہے اور امریکی شہریت بھی رکھتا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو تین ناموں پر مشتمل سمری بھجوائی گئی تھی مگر وزیراعظم آفس کے اعلیٰ حکام نے اس سمری میں دو مزید نام نہ صرف شامل کروائے بلکہ انہیں سرفہرست بھی رکھ لیا،حالانکہ جن تین ناموں کی سمری بھجوائی گئی تھی انہیں شارٹ لسٹ کرکے انٹرویو بھی کئے گئے تھے مگر چند روز قبل حیرت انگیز طور پر سہیل منیر کا نام سرفہرست کے طور پر سمری میں شامل کیا گیا اور اس کی ہدایت وزیراعظم آفس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے دی گئی۔سہیل منیر کی کمپنی C41کے ساتھ فراڈ کرچکی ہے اور اسے بلیکلسٹ بھی قرار دیا جاچکا ہے۔سہیل منیر خود بھی امریکی شہری ہیں اور بیوروکریسی کے سینئر افسران نے اس کو نادرا جیسے حساس ادارے کا چیئرمین بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ایسا شخص جو امریکی شہریت رکھتا ہے اسے پاکستان کے شہریوں کا ڈیٹا رکھنے والے ادارے کا سربراہ کیسے بنایاجاسکتا ہے؟یہ ایک حساس ادارہ ہے اور سہیل منیر کی یہاں تعیناتی سے پاکستانیوں کا ڈیٹا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق سہیل منیر امریکی فوجی ادارے C41کا ملازم تھا اور اسے نااہلی کی بنیاد پر نکال دیا گیا تھا اور اب اسے چیئرمین نادرا بنانے کا فیصلہ میرٹ اور قواعد کے خلاف کیا جارہا ہے جبکہ جن افسران کی سمری خود وزارت داخلہ نے بھجوائی تھی اس سمری کو سائیڈ لائن کردیاگیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎