جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پشاورائیرپورٹ پربیت الخلا سے 20 تولے سونا برآمد

datetime 31  مارچ‬‮  2021 |

پشاور،لاہور( آن لائن، این این آئی ) باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پربیت الخلا سے 20 تولے سونا برآمد کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پشاورمیں باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پربین الاقوامی آمد لاونج کے بیت الخلا میں چھپایا گیا موبائل فون کے ڈبوں سے 20 تولہ سونا برآمد کیا گیا ہے جسے فرض شناس سول ایوی ایشن اہلکارفیصل نے تمام سامان کسٹم اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔

سی اے اے کے مطابق سونا قومی ایئرلائین کی پرواز پی کے 284 کے ذریعے دبئی سے پشاورلایا گیا۔سی اے اے اہلکار سے متعلق ایئرپورٹ سی او او نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ سی اے ای اہلکار نے ایمانداری کا مظاہرہ کیا ہو اس سے پہلے بھی ایک واقعہ پیش آیا ہے ۔دوسری جانب محکمہ آبپاشی کا ہیڈ کلرک ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفس شیخوپورہ کے افسران کی ملی بھگت سے کروڑوں لے اڑا،اینٹی کرپشن میں انکوائری شروع ہونے پر ریکوری شروع ہو گئی ۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ آبپاشی کے ہیڈ کلرک شیخ طاہر محمود نے جعلسازی سے مجموعی طور پر سرکاری خزانے کو ایک کروڑ ستر لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا تاہم اینٹی کرپشن نے انکوائری شروع کر کے ایک کروڑ بارہ لاکھ کی ریکوری کر لی ہے ۔ملزم نے اپر گوگیرہ ڈویژن اور اپر چناب کنال ڈویژن محکمہ آبپاشی کے کنوینس فنڈز چرا ئے ،ملزم نے 75جعلی ملازمین کے اکائونٹس میں سرکاری فنڈز ٹرانسفر کئے اور خود نکلوا لئے۔ اینٹی کرپشن کے مطابق ملزم شیخ طاہر کے پاس ہیڈ کلرک کے علاوہ اکائونٹس کلرک گوگیرہ ڈویژن اور اکائونٹس کلرک اپر چناب کنال ڈویژن کا اضافی چارج بھی ہے۔ ملزم جعلی چپڑاسیوں اور بیلداروں کے اکائونٹس میں آٹھ آٹھ لاکھ سے زائد کنوینس الائونس کے فنڈز ٹرانسفر کر کے خود نکلواتا رہا۔ دونوں ڈویژنز کے اکائونٹس کلرک کے اضافی چارج کی وجہ سے فنڈز کا ہیر پھیر ملزم کے لئے آسان تھا۔ اینٹی کرپشن کے مطابق سرکاری خزانے پر ڈاکے میں ملوث تمام مفادکنندگان کو تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے،ملزمان سے سو فیصد ریکوری یقینی بنائی جائے گی اور قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…