جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

عبدالغفور حیدری ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا الیکشن کیوں ہارے؟اصل وجہ تو اب سامنے آئی

datetime 13  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن، این این آئی ) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے نامزد کردہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری کو ووٹ کم ملنے کی کہانی سامنے آ گئی ۔ عبدالغفور حیدری کو ٹکٹ دینے پر بلوچستان کی جماعتیں ناراض تھیں ۔ ذرائع کے مطابق مولانا عبدالغفور حیدری کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر سربراہی کمیٹی میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے تھے

جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا معاملہ حکومتی کمیٹی میں بھی اٹھایا گیا تھا ،کمیٹی میں بحث کے بعد عبدالغفور حیدری کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ ہوا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل چھوٹی جماعتیں بھی اپنا حصہ مانگ رہی تھیں جبکہ چھوٹی جماعتوں کا یہ اعتراض تھا کہ ٹکٹوں کی تقسیم تینوں پارٹیاں آپس میں کر رہی تھیں ۔ دوسر ی جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ نتائج کا پی ڈی ایم تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، ذاتی طور پر سمجھتا ہوں واحد حل عوام کے پاس جانا ہے، چیئرمین سینیٹ الیکشن پر عدالت میں جانا چاہیے۔ ایک انٹرویومولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لانگ مارچ کی افادیت اسمبلی سے استعفوں کے ساتھ وابستہ ہے، استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کی افادیت نہیں۔مولانافضل الرحمان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن انجینئرڈ تھا، پولنگ بوتھ پر کیمرے کس نے لگائے؟ کیمرے ارکان پر چیک رکھنے کے لئے لگائے گئے، جس کا مقصد دبائوڈالنا تھا۔سربراہ پی ڈی ایم

نے کہا کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے، گیلانی کے 7 ووٹ کیوں مسترد ہوئے، عدالت کے فیصلے موجود ہیں جب تک واضح ہو ووٹر نے ووٹ کس کو دیا، ووٹ ضائع تصور نہیں ہوگا۔مولانافضل الرحمان نے کہا کہ مسترد ووٹ بحال کردئیے جائیں تو گیلانی جیتے ہوئے ہیں، 2018ء کے بعد تمام الیکشن مشکوک ہیں، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن نے تصور بنایا کہ وہ آزاد ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کھیل منصوبے کے تحت بنایا جاتا ہے، تاثر زائل کرنا ہے، کب تک چیزوں کو چھپایا جاتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…