جاؤ جس کو جو لکھنا ہے لکھ دو، تم لوگوں کو رولز پڑھنا نہیں آئے، یہ کاغذ اپنے منہ پر مارو، منحرف اراکین کو سرکاری بینچوں پر بٹھانے پر سندھ اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی

  پیر‬‮ 8 مارچ‬‮ 2021  |  23:30

کراچی (این این آئی)سندھ اسمبلی میں جاری اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی جانب سے منحرف ارکان کو سرکاری بینچوں پر بٹھائے جانے پر احتجاج کیا گیا۔ اپوزیشن جماعت اور حکومتی اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ تحریک انصاف کی جانب سے رکناسمبلی اسلم ابڑو کو دیکھ کر لوٹے لوٹے کے نعرے لگائے گئے جبکہ اس دوران حکومتی اراکین کی جانب سے بھی بلند آواز میں جواب دیئے گئے۔سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیرصدارت شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی


شور شرابا اور ہنگامہ آرائی شروع کردی اور اسپیکر کے سامنے جمع ہوگئے، جب کہ حکومتی جماعت کے اراکین بھی مشتعل ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی، اس دوران اسپیکر اور اپوزیشن اراکین میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔اسپیکر آغا سراج درانی نے پی ٹی آئی کے بلال غفار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پارلیمانی لیڈر ہیں قانون پڑھیں، آپ لوگ بیٹھ جائیں اس طرح اجلاس نہیں چل سکتا، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، افسوس کہ اراکین کورولزکا پتہ نہیں ہے، رول 8 میں جائیں دیکھیں اس طرح کارویہ نہیں اپنایا جاسکتا، ان کو پڑھنا نہیں آتا ہے، اسپیکر آغا سراج درانی نے اجلاس دس منٹ کے لئے ملتوی کردیا۔دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو پی ٹی آئی ارکان نے اپنے باغی ارکان کی سندھ اسمبلی آمد پر احتجاج شروع کردیا، پی ٹی آئی اراکین نے اپنے منحرف ارکان اسلم ابڑو اور شہریار شر کی نشست پر لوٹوں کی تصاویر آویزاں کردیں، سندھ اسمبلی میں نشستوں پرلوٹوں کے پوسٹرچسپاں دیکھ کراسلم ابڑو کو حکومتی بینچز پر بٹھا دیا گیا، جس پر پی ٹی آئی ارکان نشستوں سےکھڑے ہوگئے اور ایک بار پھر ہنگامہ شروع ہوگیا۔اس دوران رکن ایم کیو ایم خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایوان میں 13 ضمیر فروش موجود ہیں۔پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے کہاکہ ہمارے باغی ارکان کو حکومتی بینچز پر بٹھایا گیا، یہ فلور کراسنگ اور قواعد کی خلاف ورزی ہے، ہم الیکشن کمیشن کو لکھیں گے۔ پی ٹی آئی ارکاناسمبلی اسپیکر ڈائس کیسامنے جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔ جس پر اسپیکر آغا سراج درانی غصے میں آگئے اور خرم شیر زمان سے کہا کہ جاؤ جس کو جو لکھنا ہے لکھ دو، تم لوگوں کو رولز پڑھنا نہیں آئے، یہ کاغذ اپنے منہ پر مارو، تم کو صرف ایوان کا ماحول خراب کرنا ہے، تمہیں بولنے کی اجازت نہیں، میں کسی سے ڈکٹیشننہیں لوں گا۔اسپیکر کے ریمارکس پر اپوزیشن جماعت کے اراکین اجلاس کا بائیکاٹ کرکے احتجاج پر چلے گئے۔ جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ اپوزیشن کے لوگ ہلہ گلہ کرکے چلے گئے، پہلے ہمارے سیکورٹی کے لوگوں کو دھمکایا گیا اور :آج مجھے اور سیکرٹری کو تھریٹ کیا گیا، مجھے مجبور نہ کریں کہ میں ایکشن لوں۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎