وزیراعظم شیخ رشید سے ناراض،معروف صحافی نے عمران خان کے ہاتھ نہ ملانے کی وجہ بتا دی

  ہفتہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2021  |  21:55

اسلام آباد(آن لائن + مانیٹرنگ)وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے ہاتھ ملائے بغیر آگے بڑھ گئے۔عمران خان جب اعتماد کا ووٹ لینے قومی اسمبلی آئے تو انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی سے تو ہاتھ ملالیا لیکن وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سے ہاتھ ملائے بغیر آگے بڑھ گئے۔تاہم ویڈیو میں یہ واضح نہیں کہ وزیر اعظم نے وزیرداخلہ کو دیکھا تھا یا نہیں۔واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، جس کا اعلان اسپیکر


اسد قیصر کی جانب سے کیا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ اگست 2018ء میں عمران خان 176 ووٹ لے کر وزیرِ اعظم بنے تھے جبکہ مارچ 2021ء میں 178 ارکان نے وزیرِ اعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔اس موقع پر پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان کے حق میں نعرے بھی بلند کیے گئے۔معروف صحافی رؤف کلاسرا نے اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیراعظم عمران خان نے ووٹ آف کنفیڈینس حاصل کیا تو ارکان مبارکباد دینے کے لئے لائن میں کھڑے تھے، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے جان بوجھ کر شیخ رشید سے ہاتھ نہیں ملایا،مجھے لگ رہا ہے کہ وزیراعظم شیخ رشید سے ناراض ہیں۔معروف صحافی نے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ شیخ رشید کی وزارت خطرے میں ہے کیونکہ دو تین ہفتے قبل ہونے والی کیبنٹ میٹنگ میں وزیراعظم عمران خان کو شیخ رشید نے بڑی یقین دہانی کرائی تھی کہ حفیظ شیخ جیت جائیں گے لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ معروف صحافی نے کہا کہ عمران خان نے شیخ رشید کی بات کو اہمیت نہیں دی تھی اور کہا تھا کہ ہم اس سیٹ کو ہلکا نہیں لیں گے،خان صاحب کے ذہن میں ہے کہ شیخ صاحب ہوائیاں چھوڑتے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎