مجھ کو کرسی کی چاہ نہیں ہے، مجھ کو سنتا ہے جو وہ سمیع ہے، اپنے عمران کو تنہا نہ چھوڑیں، آرہا ہوں میں آقا مدینہ، وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد ڈاکٹر عامر لیاقت کے تعریفی کلمات

  ہفتہ‬‮ 6 مارچ‬‮ 2021  |  18:43

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ میں اسلام آباد کی نشست پر اپ سیٹ شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا، 178 اراکین نے وزیراعظم پراعتماد کا اظہار کیا،ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے 172 ووٹ درکار تھے۔قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس دن سوا 12بجےشروع ہوا اور تلاوت کلام پاک اور نعت رسول ؐمقبول پیش کی گئی جس کے بعد قومی ترانا پڑھا گیا۔وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر ہونے والے اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ایوان میں قراداد پیش کی۔قرارداد میں کہا


گیا کہ یہ ایوان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد بحال کرتی ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 91 کی شق (7) کے تحت ضروری ہے۔وزیر خارجہ کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اراکین کو طریقہ کار سے متعلق بتایا اور ایوان میں اراکین کو آنے کیلئے گھنٹیاں بجائی گئی۔بعدازاں ایوان کے دروازے بند کردئیے گئے اور اراکین کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے لابی میں جانے کی ہدایت کی گئی۔ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے بعد گنتی کی گئی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ اگست 2018 میں عمران خان نے ایوان سے 176 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ خصوصی اجلاس میں ایوان کے 178 ارکان کے ووٹ حاصل کرلیے۔وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایوان نعروں سے گونج اٹھا اور اراکین اسمبلی کی جانب سے ڈیسک بجا کر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔اس موقع پر کراچی سے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے ایوان میں وزیراعظم کے اعزازمیں تعرفی کلمات بھی پڑھے۔عامر لیاقت نے اشعار پڑھے کہ ”مجھ کو کرسی کی چاہ نہیں ہے، مجھ کو سنتا ہے جو وہ سمیع ہے، اپنے عمران کو تنہا نہ چھوڑیں، آرہا ہوں میں آقا مدینہ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اگرچہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین شریک نہیں ہیں تاہم ایوان میں یہ دیکھنے کو ملا کہ اپوزیشن کی نشستوں پر نوٹ کو عزت دوکے نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈ رکھ دیے گئے تھے۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں حکمران جماعت اور اتحادیوں کی تعداد کو دیکھیں تو پاکستان تحریک انصاف کے 156، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے 7، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 5، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے 3، عوامی مسلم لیگ کی ایک، بی اے پی کے 5 اورجے ڈبلیو پی کا ایک رکن ہے جبکہ 2 آزاد اْمیدوار بھی حکمران اتحاد کا حصہ ہیں۔دوسری جانب اپوزیشن کے اراکین کی مجموعی تعداد 160 ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی تعداد 83، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اراکین کی تعداد 55، ایم ایم اے کے 15، اے این پی کا ایک، بی این پی ایم کے 4 جبکہ 2 آزاد امیدوار بھیاپوزیشن کا حصہ ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اپنے اراکین سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اعلان رواں ہفتے ہونے والے سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر اپ سیٹ شکست کے بعد سامنے آیا تھا۔3 مارچ کو ایوان بالا کے انتخابات میں اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومتی اتحادی امیدوار حفیظ شیخ کو اپوزیشنجماعتوں کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی سے شکست ہوئی تھی اور حکومت ایوان زیریں میں اکثریت رکھنے کے باوجود یہ نشست ہار گئی تھی۔حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے تھے جبکہ یوسف رضا گیلانی 169 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی اتحاد کے اراکین قومیاسمبلی نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو وٹ دئیے تھے۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹیوں کا ایک اجلاس ہوا تھا جہاں حکمران اتحاد کے 179 اراکین میں سے 175 نے وزیراعظم عمران خان کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ایوان زیریں کے خصوصی اجلاس کے دوران انہیں اعتماد کا ووٹ دیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

راﺅنڈ اباﺅٹ

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎