میرے اور اہلخانہ کی تضحیک کی گئی ،عدالتی کارروائی براہ راست کی جائے، جسٹس فائزعیسیٰ کے دلائل

  پیر‬‮ 1 مارچ‬‮ 2021  |  23:12

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے دلائل طلب کر لئے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استدعا کی کہ عدالتی کارروائی براہ راست ٹی وی چینلز پر نشر کی جائے،میرے اور میرے اہل خانہ کی تضحیک کی گئی، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہمارے سامنے ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے، اگر براہ راست کوریج کی اجازت دی تو کل ہر درخواست گزار عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی


درخواست دیگا۔ پیر کے روز جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظرثانی کیس کی سماعت کی۔ سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور انکی اہلیہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کی طبیعت ناساز ہے، وہ نہیں آ سکے، اسی دوران جسٹس قاضی فائز روسٹرم پر آگئے،جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کیا آپ خود دلائل دیں گے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا میں خود دلائل دونگا، ہم 2019سے مشکل میں مبتلا ہیں، میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور ساتھی جج کیس کے خاتمے تک بنچ سے ریٹائر ہو جائے، کہیں ایسا نہ ہو نظرثانی کیس مکمل ہونے سے قبل پھر کوئی معزز جج ریٹائر ہو جائے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم وفاق کا موقف سن لیتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا اٹارنی جنرل علالت کے سبب سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہو سکے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں ایکمتفرق درخواست بھی دائر کر رکھی ہے،میری درخواست غیر معمولی ہے، سپریم کورٹ میری درخواست پر غور کرے، میں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے نظرثانی کیس کی براہ راست نشریات نشر کی جائیں، میں نے درخواست میں استدعا کی ہے نظر ثانی کیس پی ٹی وی اور پرائیویٹ چینلز پر براہ راست نشر کیا جائے، میرے اورمیرے اہل خانہ کیخلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی، ہمارا عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست کا مقصد عوامی رائے کو درست کرنا ہے، مجھے علم نہیں حکومت کا میری درخواست پر کیا موقف ہوگا، جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے میں کہا آپ کی درخواست کی اس سے پہلے کوئی مثالنہیں ملتی، آپ کی شکایت ہے کہ آپ کی آپکے اہل خانہ کی تضحیک کی گئی،ہمارے سامنے آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی تضحیک سے متعلق کوئی مواد موجود نہیں ہے،اگر آپ کی درخواست منظور ہوئی تو پھر ہر ہر سائل براہ راست نشریات کیلئے سپریم کورٹ آجائے گا، اگر آپ چاہیں تو دلائل دینا چاہیں تو دے دیں، ہم ابھی آپ کی درخواستپر حکومت کو نوٹس جاری نہیں کریں گے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کیا آپ نے براہ راست نشریات سے متعلق درخواست پڑھی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں نے ابھی درخواست نہیں پڑھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے دائر کردہ درخواست کا مقصد شفافیت ہے،ہمیں ابھی یہ بھی علم نہیں ہے کہ براہ راست نشریات کیلئے ہمارا عدالتی سسٹم موثر ہے یا نہیں۔عدالت نے نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی لائیو براڈکاسٹ کے معاملہ پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے دلائل طلب کر لیے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو اٹارنی جنرل خالد جاوید سے ہدایات لینے کا بھی حکم دے دیا. کیس کی سماعت آج دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎