بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

میرے اور اہلخانہ کی تضحیک کی گئی ،عدالتی کارروائی براہ راست کی جائے، جسٹس فائزعیسیٰ کے دلائل

datetime 1  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے دلائل طلب کر لئے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استدعا کی کہ عدالتی کارروائی براہ راست ٹی وی چینلز پر نشر کی جائے،

میرے اور میرے اہل خانہ کی تضحیک کی گئی، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہمارے سامنے ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے، اگر براہ راست کوریج کی اجازت دی تو کل ہر درخواست گزار عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست دیگا۔ پیر کے روز جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظرثانی کیس کی سماعت کی۔ سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور انکی اہلیہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کی طبیعت ناساز ہے، وہ نہیں آ سکے، اسی دوران جسٹس قاضی فائز روسٹرم پر آگئے،جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کیا آپ خود دلائل دیں گے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا میں خود دلائل دونگا، ہم 2019سے مشکل میں مبتلا ہیں، میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور ساتھی جج کیس کے خاتمے تک بنچ سے ریٹائر ہو جائے، کہیں ایسا نہ ہو نظرثانی کیس مکمل ہونے سے قبل پھر کوئی معزز جج ریٹائر ہو جائے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم وفاق کا موقف سن لیتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا اٹارنی جنرل علالت کے سبب سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہو سکے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک

متفرق درخواست بھی دائر کر رکھی ہے،میری درخواست غیر معمولی ہے، سپریم کورٹ میری درخواست پر غور کرے، میں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے نظرثانی کیس کی براہ راست نشریات نشر کی جائیں، میں نے درخواست میں استدعا کی ہے نظر ثانی کیس پی ٹی وی اور پرائیویٹ چینلز پر براہ راست نشر کیا جائے، میرے اور

میرے اہل خانہ کیخلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی، ہمارا عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست کا مقصد عوامی رائے کو درست کرنا ہے، مجھے علم نہیں حکومت کا میری درخواست پر کیا موقف ہوگا، جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے میں کہا آپ کی درخواست کی اس سے پہلے کوئی مثال

نہیں ملتی، آپ کی شکایت ہے کہ آپ کی آپکے اہل خانہ کی تضحیک کی گئی،ہمارے سامنے آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی تضحیک سے متعلق کوئی مواد موجود نہیں ہے،اگر آپ کی درخواست منظور ہوئی تو پھر ہر ہر سائل براہ راست نشریات کیلئے سپریم کورٹ آجائے گا، اگر آپ چاہیں تو دلائل دینا چاہیں تو دے دیں، ہم ابھی آپ کی درخواست

پر حکومت کو نوٹس جاری نہیں کریں گے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کیا آپ نے براہ راست نشریات سے متعلق درخواست پڑھی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں نے ابھی درخواست نہیں پڑھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے دائر کردہ درخواست کا مقصد شفافیت ہے،

ہمیں ابھی یہ بھی علم نہیں ہے کہ براہ راست نشریات کیلئے ہمارا عدالتی سسٹم موثر ہے یا نہیں۔عدالت نے نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی لائیو براڈکاسٹ کے معاملہ پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے دلائل طلب کر لیے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو اٹارنی جنرل خالد جاوید سے ہدایات لینے کا بھی حکم دے دیا. کیس کی سماعت آج دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…