جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

کوویڈ ابھی ختم نہیں ہوا، ہم 100 فیصد بچوں کو بلانے کی اجازت نہیں دیں گے، سکولوں کے حوالے سے اہم اعلان کر دیا گیا

datetime 28  فروری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہاہے کہ کوویڈ ابھی ختم نہیں ہوا،کیسز کم ہوئے ہیں، ہم 100 فیصد بچوں کو بلانے کی اجازت نہیں دیں گے، پہلے سے طے شدہ فیصلوں کے مطابق 50فیصد بچوں کی حاضری ہوگی،اساتذہ کی بھرتی کیلئے اشتہار بھی جاری کردیا ہے، درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ تاریخ

26 مارچ 2021 ہے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہاکہ وفاقی وزیر تعلیم کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہورہی ہے، سندھ میں محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی ہے۔ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کیا جاتا ہے، کمیٹی کے فیصلوں پر تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا، کوویڈ ابھی ختم نہیں ہوا کیسز کم ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، نجی اسکول میں بچوں کے درمیان فاصلہ رکھنا رکھنا لازمی ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے یکم مارچ سے سو فیصد بچوں کو ایک ساتھ اسکول جانے کا اعلان کیا ہے، جب سو فیصد بچوں کو ایک ساتھ بلایا جائے گا تو فاصلہ کیسے برقرار رکھا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہم سندھ میں اپنا فیصلہ برقرار رکھیں گے ہم سو فیصد بچوں کو بلانے کی اجازت نہیں دیں گے، پہلے سے طے شدہ فیصلوں کے مطابق پچاس فیصد حاضری بچوں کی ہوگی۔ کوویڈ کے اختتام پر سو فیصد بچوں کو ایک ساتھ اجازت دیں گے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم سندھ نے اساتذہ کی بھرتی کیلئے اشتہار بھی جاری کردیا ہے، درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ تاریخ 26 مارچ 2021 ہے۔سعید غنی نے کہاکہ ہمارے یہاں اساتذہ کی کمی ہے، سکھر آئی بی اے سے ایم او یو سائن ہوا۔ اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے، پہلے استادوں کا گریڈ نو ہوا کرتا تھا۔ کابینہ نے پالیسی میں تبدیلی

کی ہے پرائمری اسکول ٹیچر کا گریڈ 14 ہوگا بھرتیاں یوسی کی سطح پر ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ جس اسکول میں اساتذہ کی کمی ہے مقامی استاد کو بھرتی کیا جائیگا، صوبہ سندھ میں ایسے علاقے ہیں جہاں اساتذہ نہیں ملتے۔ 26 مارچ تک خواہشمند حضرات نوکری کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کس یوسی میں کتنی بھرتیاں ہیں

یکم مارچ کو محکمہ تعلیم اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیں گے، پچھلے ڈھائی تین برسوں سے ٹیچنگ اسٹاف کے تبادلوں پر پابندی تھی۔ تین نئی ٹرانسفر پالیسی بنائی ہے، ایک ریڈ کیٹگری، ایک یلو اور ایک گرین کیٹگری بنائی ہے کوئی استاد اپنا ٹرانسفر کروانا چاہتا ہے وہ ای پورٹل سے اپلائی کر سکتا ہے۔سعید غنی نے کہاکہ سال میں ایک

مرتبہ تبادلے کیے جائیں گے، وہ خواتین استاد جو مشکلات سے دوچار ہونگی انکا پورا سال تبادلہ ہو سکتا ہے۔ ریڈ کیٹگری اسکول کے استاد کا تبادلی کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، ریڈ کیٹگری میں زیادہ اساتذہ رکھے گئے ہیں۔ زیادہ تر بچیاں پانچویں جماعت کے بعد اسکول نہیں جاتی، زیادہ تر علاقوں میں سیکنڈری اسکول نہیں ہوتے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…