پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

ہو سکتا ہے لانگ مارچ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے، مریم نواز نے عمران خان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

datetime 27  فروری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان ایک بار تو سازباز کرکے حکومت میں آگئے لیکن اب دوبارہ ان کے آنے کا چانس نہیں،لانگ مارچ کی تیاریاں عنقریب شروع ہوجائیں گی لیکن ہوسکتا ہے لانگ مارچ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے،ڈسکہ میںدوبارہ انتخاب سے پی ٹی آئی کی ضمانت

ضبط ہوجائے گی اس لیے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو روکنے کی کوشش کی جاری ہے۔ جاتی امراء سے حمزہ شہباز کے استقبال کیلئے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حمزہ شہباز نے بہادری کے ساتھ جھوٹے کیسز کا مقابلہ کیا، دو سال نا حق جیل کاٹی ،ان کی رہائی پر بہت خوشی ہے، ساتھ مل کر پارٹی کیلئے مزید کام کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان بھی اب تحریک انصاف کو پسند نہیں کرتے، سینیٹ انتخابات میں ان کے ارکان بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور ووٹ دینے کو تیار نہیں، عمران خان کی کارکردگی سے ان کے ووٹ بینک پر اثر پڑا ہے، عمران خان کو ووٹ دینے کا مطلب ووٹ چور کو جتوانا ہے، عمران خان ایک بار تو ساز باز کر کے آگئے ہو دوبارہ اس کا چانس نہیں، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی بھی اپنے لیے محفوظ راستے ڈھونڈ رہے ہیں، سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ ہر صوبے سے بغاوت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے باوجود حکومت ڈسکہ کا الیکشن نہیں جیت سکی، ایک حلقہ کھلا تو ساری حقیقت سامنے آگئی، حکومت ڈسکہ میں دوبارہ انتخاب سے متعلق الیکشن کمیشن کا چیلنج اس لئے کررہی ہے کہ چوری پکڑی گئی ہے، ان کو ڈر ہے کہ حکام پول کھول دیں گے اور پکڑے جانے والے چھوٹے چور بڑے چوروں کا بتادیں گے، امپائر کو اغوا ء

کرنے کے بعد بھی انتخاب ہار گئے، دوبارہ انتخاب سے پی ٹی آئی کی ضمانت ضبط ہوجائے گی اس لیے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو روکنے کی کوشش کی جاری ہے۔مریم نواز نے کہا کہ لانگ مارچ کی تیاریاں عنقریب شروع ہوجائیں گی، ہوسکتا ہے لانگ مارچ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سینیٹ انتخاب سے متعلق کچھ نہ ہی کہوں تو بہتر ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…