بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’’2018سینٹ انتخابات ،وائرل وڈیو سے عمران خان کا شو آف ہینڈ کا مؤقف درست ثابت ہو گیا‘‘

datetime 9  فروری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)جعلی راجکماری اور مولانا کو فوج کے نیوٹرل رہنے پر غصہ ہے ،یہ لوگ فوج کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکے تو انہوں نے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، حکومت نے سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹنگ کیلئے عدالت سے رہنمائی طلب کی ہے مگر راجکماری سے چھانگا مانگا سیاست کا خاتمہ برداشت نہیں ہو رہا،دوسری طرف مولانا کواقتدار سے محرومی کا

درد اور دماغ کا خلل سکون نہیں لینے دے رہا۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ہیڈ آفس دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیف سیٹیز اتھارٹی قومی سلامتی کا اہم منصوبہ ہے جو عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل ہے ۔لاہور  سے شروع ہونے والے اس مفید پراجیکٹ کو مرحلہ وار دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک توسیع دی جا رہی ہے۔رواں مالی سال میں راولپنڈی اور ننکانہ سیف سٹی منصوبے پر کام جاری ہے ۔اس سینٹر میں روزانہ 60 ہزار کالز موصول کی جاتی ہیں۔ اور وقوعہ کے مطابق بروقت فیلڈ فورس کو رسپانس کے لئے ایکٹو کیا جاتا ہے ۔  پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے سال 2020 میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد ایمرجنسی کالز موصول کیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ اتھارٹی کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پولیس ریسپانس ٹائم میں بہتری آئی ہے اور پنجاب بھر میں 10 سے 15 منٹ میں پولیس شہریوں کو مدد فراہم کر رہی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں واپسی سیف سٹی کی بدولت ہی ممکن ہوئی اور تمام عالمی ماہرین نے اس منصوبے کی افادیت کو سراہا ۔ پولیس کو تفتیش میں مدد کیلئے ہر روز درجنوں واقعات کی فوٹیج فراہم کی جاتی ہے۔اب تک پولیس کوتفتیش میں مدد کیلئے7 ہزار سے زائد آڈیو،ویڈیو شہادتیں فراہم کی گئی ہیں ۔شہر میں ٹریفک کو ریگولیٹ کرنے کیلئے الیکٹرانک چالان کا نظام متعارف کروایا گیا جس کی بدولت جان لیوا ٹریفک حادثات میں 45 فیصد کمی آئی ہے ۔شہریوں کی آسانی کیلئے ای چالان کی آن لائن ادائیگی کا نظام بھی متعارف کروایا ہے جس کی بدولت شہری گھر بیٹھے اپنے چالان ادا کر سکتے ہیں ۔ سیف سٹی اتھارٹی  کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد کامران خان نے اتھارٹی کے آفس پہنچنے پر ڈاکٹر فردوس عاشق کا استقبال کیا اور انہیں ادارے کی کارکردگی بارے بریفنگ دی۔  محمد کامران نے معاون خصوصی کو بتایا کہ اتھارٹی نے 3 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں اور دیگرافراد کو اپنوں سے ملوایا  جبکہ کریمنل ریکارڈ چیک کرنے کیلئے پہچان ایپ اور خواتین کے تحفظ کیلئے ویمن سیفٹی ایپ متعارف کروائی گئی ہے ۔آفیشل سوشل میڈیااکاؤنٹس اور پاکستان میں پولیس کے پہلے ویب ٹی وی کے ذریعے عوامی آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاوٹ مافیا کی روک تھام کیلئے فوڈ اتھارٹی، بارشی پانی کے نکاس کیلئے واسا کو کیمروں کی مدد سے راہنمائی  فراہم کی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ادارے کے مختلف سیکشنز کا دورہ کیا ۔معاون خصوصی نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر 2018سینیٹ الیکشن میں اراکین اسمبلی کی جانب سے رشوت وصول کرنے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے کرانے کا مؤقف بالکل درست تھا ۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ بیلٹنگ کے حمایتی دراصل ماضی کی طرح پیسے کے بل بوتے پرہارس ٹریڈنگ کی سیاست کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…