لاہور( این این آئی)مسلم لیگ (ن) کے ناراض اراکین پنجاب اسمبلی نے کہا ہے کہ نوازشریف نے ثابت کیا کہ وہ قیادت کے اہل نہیں رہے بلکہ کبھی تھے ہی نہیں، مطالبہ ہے نواز شریف کسی اچھی قیادت کے لئے راستہ چھوڑ دیں ،ہم استعفے دینے کے لئے تیار ہیں لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ مریم نواز دیگر اراکین کے استعفے سامنے لائیںاور استعفے دے کر اپنی بات سچ ثابت کریں، ایک طرف استعفے
اوردوسری طرف سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی بات کرتے ہیں ،انہی اسمبلیوں سے مولانا صاحب سینیٹر بن کر آجاتے ہیں تو پھر سب حلال ہوجائے گا ،مریم نواز کا آر یاپار سب نے دیکھ لیا ،لاہور کے جلسے نے ثابت کر دیا کہ ان کے بیانیے کوعوام میں پذیرائی نہیں ملی ،ہم نے اس ملک اور پارٹی کے لئے اپناخون دیاہے جس پارٹی کے لیے خون دیا اس پر اب میاں صاحب آپ کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے ،ہم پس پردہ رابطے نہیں کرتے سب کے سامنے کرتے ہیں،حلقے کے حق نمائندگی کے لئے وزیر اعلی سے ملاقات کی آئندہ بھی کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار نشاط احمد ڈاہا ،فیصل خان نیازی،میاں جلیل شرقپوری اور اشرف انصاری نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔اراکین اسمبلی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف عدالت سے وعدہ کر کے گئے واپس آئوں گا میاں نواز شریف صاحب سچے ہیں تو واپس آئیں اور عدالت کا سامنا کریں ،اس میں کوئی بری بات نہیں، میاں صاحب کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو میدان میں رہیں، اگرنوا زشریف وطن واپس نہیں آتے تو ہم سمجھتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ووٹ کی اکثریت عمران خان اور عثمان بزدار کے پاس ہے، اگر موجودہ حکومت سے مہنگائی کنٹرول نہیں ہوتی تو اگلے الیکشن میں عوام ان سے جواب لے گی ، اپوزیشن کے جلوس نکالنے سے ملک میں افراتفری اور انتشارپھیلے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں موجود ہم پانچ ارکان استعفے دینے کو تیار ہیں، ساتھ ہمارا مطالبہ ہے کہ مریم نواز دیگر اراکین کے استعفے سامنے لاکر اپناوعدہ پورے کریں، استعفے دینا چاہتے ہیں تو دیں اور اپنی بات سچ ثابت کریں، ایک طرف استعفے تودوسری طرف سینیٹ انتخابات کی بات کرتے ہیں، انہیں اسمبلیوں سے مولانا صاحب سینیٹر بن کر آجاتے ہیں تو پھر سب حلال ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یاس ملک اور پارٹی کے لئے اپناخون دیاہے، جس پارٹی کے لیے یخون دیا اس پر اب میاں صاحب آپ کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے، لندن میں بیٹھ کر
نواز شریف ملکی سلامتی کے اداروں پر الزام لگا رہے ہیں ،قیادت کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ملک دشمن قوتوں نے ملک وقوم پریلغار کی ہوئی ہے، ایسی صورتحال میں ہمیں قائد اعظم جیسا لیڈر چاہیے ، میاں صاحب کب تک آپ ملک وقوم کی آنکھوں میں دھول جھونکیں گے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے ثابت کیا کہ وہ قیادت کے اہل نہیں رہے بلکہ کبھی تھے ہی نہیں، پرویز مشرف کے دور میں بھی نوازشریف ساتھیوں کو چھوڑ کر چلے گئے اور قوم سے کہا کہ ہمیں جلاوطنی پر مجبور کیا گیابعد میں پتہ
چلا معاہدہ کرکے گئے، کئی ماہ سے کہا جارہا ہے کہ میاں صاحب بیمارہیں ماشااللہ وہ ہم سے زیادہ صحت مندہیں۔اراکین اسمبلی نے کہا کہ ہم کچھ حقائق عوام کے سامنے رکھنے کے لئے آئے ہیں ،آج بھی ہندو لابی اور اسرائیلی لابی وطن عزیز کے خلاف سازشیں کر رہی ہے ،اس کا مقابلہ اتحاد سے کیا جاتا ہے ،جمہوریت کا حسن ہوتا ہے کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو سنا جائے مگر یہاں تو اختلاف رائے پر پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے ،نواز شریف نے جو اداروں کے خلاف باتیں کیں وہ ان کی کم سمجھی تھی ،
اداروں کے خلاف جنگ کرنا حل نہیں ،مریم نواز کا آر یاپار سب نے دیکھ لیا ،لاہور کے جلسے نے ثابت کر دیا کہ قیادت کے بیانیے کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔ اراکین اسمبلی نے کہا کہ انشاللہ عمراں خان کی قیادت ملک آگے جائے گا اور مہنگائی بھی ختم ہو گی ،اپنی بے ایمانی بچانے کے لیے دبائو ڈالا جارہا ،چور مچائے شورکی پالیسی مسلم لیگ (ن)نے اختیار کر رکھی ہے ،یہ ایک کر پٹ مافیا ہے سارے ملازم
جماعت میں بھرتی کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن سچ بولنا سب سے بڑا جہاد ہے ،مسلم لیگ (ن) کی قیادت نواز شریف کے خاندان میں ہی رہے گی ،یہ مسلم لیگ قائداعظم کی جماعت نہیں یہ تو شروع سے ہی ایجنٹ ہیں ،مسلم لیگ(ن)کے طویل اقتدار میں کشمیر کے لئے کیا کیا گیا ؟مسلم لیگ (ن) کی قیادت بڑی لیگلائز طریقے سے کرپشن کرتی ہے ۔مسلم لیگ (ن) میں لوگوں نے ثابت کیا ہے کہ جو جتنا بڑا قبضہ گروپ ہے اتنا ہی قیادت کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف بتائیں وہ کن کی خوشنودی کے لئے
اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،میاں صاحب آپ جیسے شخص کو اب قیادت پر قابض نہیں رہنے دیں گے ،کھوکھر پیلس ناجائز گرا ہے تو عدالت جائیں،مسلم لیگ (ن)پر قبضہ گروپ مسلط ہے اس قبضہ گروپ کو ہٹانے کے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نوا ز شریف کو قائد مانتے تھے مگر انہوں نے ثابت کیا کہ وہ کبھی بھی قیادت کے اہل نہیں تے جو پردہ پڑا تھا وہ ہمارے سامنے سے اٹھ گیا ہے ،جب بھی مشکل وقت آتا ہے نواز شریف باہر چلے جاتے ہیں،نواز شریف کہتے ہیں کہ وہ قوم کے لیڈر ہیں
اگر لیڈر ہیں تو قوم کے ساتھ رہیں ۔ مطالبہ ہے کہ نواز شریف کسی اچھی قیادت کے لئے راستہ چھوڑ دیں ،مسلم لیگ قائداعظم کی جماعت ہے ہمیں تو اسی طرح کا لیڈر چاہیے۔ اراکین اسمبلی نے کہا کہ اپنے حلقوںکی بہتری کے لئے وزیر اعلی کے سامنے جو گزارشات رکھیں وہ انہوں نے پوری کیں ، وزیر اعلیٰ سے ملاقات پر پارٹی میں شور غوغا برپا کیا گیا ،کیا آپ بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں کرتے ،کیا جب آپ کو ضرورت پڑتی ہے تو آپ رابطے نہیں کرتے ،آپ بلاشبہ رابطے کرتے ہیں ،اگر آپ کو یہ حق ہے تو پھر
ہمیں کیوں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات اس بیانیے کے ساتھ لڑے کہ پیپلز پارٹی کرپٹ ہے لیکن جب اپنے مفاد کی بات آئی تو مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی شیر و شکر ہو گئی ،ہم پس پردہ رابطے نہیں کرتے سب کے سامنے کرتے ،حلقے کے حق نمائندگی کے لئے وزیر اعلی سے ملاقات کی آئندہ بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جو سیاست چل رہی ہے اس کا منطقی انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں ،اپوزیشن جس پوزیشن پر چلی گئی ہے وہاں سے واپسی کا راستہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کے ضامن ادارواں کو نشانہ بنا یا جارہا ہے، پی ڈی ایم جو کرنے جارہی ہے اس کا تباہی کے سوا کوئی انجام نہیں ،اپوزیش سے درخواست ہے کہ سیاستدان کواس نہج پر نہیں جاتا جس سے ملک اور عوام کو نقصان پہنچے ،قیادت استعفوں کا دلیرانہ فیصلہ کرے تو ان کے ساتھ استعفے جمع کرائیں گے۔



















































