منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی کے شعبے میں1.66 ارب ڈالرز کا سب سے بڑااسٹریٹجک منصوبہ مشکل میں پھنس گیا، چینی کمپنی کا حکومت کو لکھاگیا خط بھی سامنے آگیا

datetime 2  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بجلی کے شعبے میں ملک کا سب سے بڑا اسٹریٹجک منصوبہ یعنی 1.66 ارب ڈالرز مالیت کا 660 کے وی مٹیاری لاہور ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن پروجیکٹ جس میں 4000 میگاواٹ بجلی خارج کرنے کی گنجائش ہے مشکل میں پھنس گیا ہے جیسا کہ ریاستی

ملکیت نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ سسٹم (این ٹی ڈ ی سی) اور پاک مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پرائیوٹ) لمیٹڈ (پی ایم ایل ٹی سی) تیاری کی سند (سرٹیفکیٹ آف ریڈینس) کے تنازع پر جھگڑ پڑے ہیں۔ اس تنازع نے چین پاکستان اقتصادری راہداری (سی پیک) کے اس بڑے پرچم بردار منصوبے کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس کا کمرشل آپریشنز (سی او ڈی) یکم مارچ 2021 کو حاصل کرنا طے ہے۔ روزنامہ جنگ میں خالد مصطفی کی شائع خبر کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب این ٹی ڈی سی نے آزاد انجینئر (سی ای ایس آئی) کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ آف ریڈینس (سی او آر) کو جائز قرار دینے سے انکار کردیا۔ اس نے منصوبے کی تعمیر کرنے والی چینی کمپنی پاک مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پی ایم ایل ٹی سی) کو مشتعل کردیا۔ یہ انکار این ٹی ڈی سی کی جانب سے اس

وقت سامنے آیاجب اس کے گرڈ کو منصوبے کی تکمیل کے بعد آزمائش کے دوران لہراو یا ارتعاش کا تجربہ ہوا۔ چینی کمپنی کا کہنا ہے کہ NTDC نے ٹرانسمیشن سروسز معاہدے اور ٹیرف کے تعین کے مطابق ذمہ داریوں اور اقدامات کو انجام نہیں دیا ہے جو فل لوڈ ٹیسٹنگ

کیلئے نا اہلی کا باعث بنا اور مزید اہم بات یہ ہے کہ چینی کمپنی نے چینی حکومت کی اعلی سطحی شمولیت کے ساتھ این ٹی ڈی سی کو معاہدے کے تحت قانونی کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ ان خطرناک انکشافات کا تذکرہ مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن کمپنی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او)

ژینگ لی کی جانب سے وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) عمر ایوب کو لکھے گئے خط میں کیا گیا ہے۔ تاہم این ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر ڈاکٹر خواجہ رفعت حسن سے متعدد بار رابطہ کیا گیااور انہیں خبر متوازن بنانے کے لئے ایک سوال نامہ بھیجا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔

چینی کنٹریکٹر پی ایم ایل ٹی سی نے 27 جنوری کو لکھے گئے خط میں موقف اپنایا کہ اس طرح کی آزمائش کے دوران اس طرح کے مسائل ہونا عام سی بات ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ این ٹی ڈی سی گرڈ ارتعاش کے بعد این ٹی ڈ ی سی اور اونر انجینئر (ہیچ) کی جانب سے غلط بنیادوں

پر آزاد انجینئر (سی ای ایس آئی) سرٹیفکیٹ آف ریڈینس (سی او آر) کو ناجائز قرار دینے کا عزم کیا گیا ہے اور پی ایم ایل ٹی سی کو اس کی نشاندہی کرنا ہوگی کہ وہ ٹرانسمیشن سروسز ایگریمنٹ (ٹی ایس اے) کے مطابق سی ای ایس آئی کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کو ناجائز قرار دینے کے اہل

نہیں ہیں۔ چینی کمپنی نے خط میں وفاقی وزیر توانائی سے تمام فریقین کے ساتھ فوری طور پر اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ پی ایم ایل ٹی سی اپنی پوزیشن واضح طور پر بیان کرسکے۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ این ٹی ڈی سی کے ذریعہ مکمل ہونے والی کارروائیوں

میں تاخیر سے پاک چین تعاون کے اس فلیگ شپ پروجیکٹ، این ٹی ڈی سی اور قانونی پیچیدگیوں کے مقابلے معاہدہ کے دعووں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا چونکہ این ٹی ڈی سی تاخیر کے لئے پی ایم ایل ٹی سی کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش

کر رہی ہے۔ چینی کمپنی نے NTDC کو مرحلہ وار کمیشننگ کا مشورہ دیا ہے جس سے دونوں فریقین کو فائدہ ہوگا، این ٹی ڈی سی کیلئے جنوب سے شمال تک ٹرانسمیشن کی گنجائش میں نمایاں بہتری آئے گی اور ٹرانسمیشن لائن کو تقویت دینے سے ٹاور مواد اور موصل کی چوری کے بڑے خطرہ سے بچا جاسکتا ہے وغیرہ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…