کراچی(این این آئی)وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ نے رابطہ کمیٹی میٹنگ میں ان سے سخت لہجے میں بات کرنے پر وفاقی وزیر علی زیدی کے خلاف وزیرِ اعظم عمران خان کو شکایتی خط لکھ دیا۔وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ نے وزیرِ اعظم عمران خان سے خط کے ذریعے شکایت کی ہے کہ علی زیدی نے میٹنگ میں پارلیمانی زبان اور
رویے کا لحاظ نہیں کیا۔مراد علی شاہ نے خط میں لکھا ہے کہ علی زیدی نے میٹنگ میں سب کے سامنے ان سے نامناسب رویہ اختیار کیا، علی زیدی اس سے قبل بھی نامناسب رویہ اختیار کر چکے ہیں۔خط میں کہا گیا کہ کوآرڈی نیشن کمیٹی کی میٹنگ میں یہ رویہ روایات کے خلاف ہے، میٹنگ میں علی زیدی انتہائی تکبر اور غرور سے وزیرِاعلی سندھ کو مخاطب کرتے رہے۔وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ نے وزیرِ اعظم عمران خان سے بذریعہ خط یہ بھی کہا ہے کہ خط کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہاہوں، آئندہ اجلاس میں علی زیدی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔دوسری جانب وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے خط کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی نے بھی وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ،خط میں کہا گیاہے کہ انتظامی معاملات چلانا تو پہلے ہی مراد علی شاہ کے بس میں نہ تھا لیکن وہ گفتگو کے آداب سے بھی مکمل ناواقف نکلے وزیر اعلی سندھ نا اہل ، مغرور اور کراچی کے مسائل کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ وزیراعلی سندھ اور وفاقی وزیرعلی زیدی کے درمیان جنگ شدت اختیا رکر گئی ، علی زیدی نے بھی وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھ دیا۔وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں علی زیدی نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کا آپ کو لکھا گیا خط ان کے تکبر کا مظہر ہے، انتظامی معاملات چلانا تو پہلے ہی مراد
علی شاہ کے بس میں نہ تھا لیکن گفتگو کے آداب سے بھی مکمل نا واقف نکلے۔ وزیراعلی چھ ماہ سے اداروں کے اختیارات نچلی سطح تک منتقلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، شہری سہولیات کی فراہمی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے مگر صوبے میں لوٹ مار کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔خط میں لکھا گیا ہے کہ مراد علی شاہ نے ادب و شائستگی
کی تمام حدود پھلانگ کر وزیراعظم کو خط بھجوایا ہے، کراچی میں ترقیاتی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی کے قیام کو چھ ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے جس میں تین وفاقی وزرا بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مراد علی شاہ پر الزام عائد کیا کہ وزیر اعلی سندھ چوروں کے سہولت کار ہیں اور خود کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں
سمجھتے۔علی زیدی نے خط میں لکھا ہے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نچلی سطح تک منتقلی سے متعلق استفسار پر مراد علی شاہ برہم ہوئے۔ کمیٹی اجلاس میں اداروں کی نچلی سطح تک منتقلی پر ہونے والی ہر بحث کو ادھر ادھر کا رخ دے دینا مراد علی شاہ کا وطیرہ ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ بنیادی
شہری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کمیٹی کے کئی اجلاس مراد علی شاہ کے نکمے پن کی علامت ہیں جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم مالی معاونت کو ضائع کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مراد علی شاہ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو کراچی کے شہریوں کو مشکلات سے نکالنے کی ساری کوششیں غارت ہوجائیں گی، وزیراعلی سندھ
کو وفاقی حکومت اور قوم سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری کا پابند بنایا جائے۔علی زیدی نے واضح کیا ہے کہ کمیٹی کے رکن کے طور پر منصوبوں پر پیشرفت اور تکمیل میں تاخیر پر سوال پوچھنا ان کا بنیادی حق ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعلی سندھ نے 17 جنوری کو خط لکھ کر وزیراعظم عمران سے سے وزیر بحری امور علی زیدی کے رویئے کی شکایت کی تھی۔