منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

5 ماہ بعد بھی بی آر ٹی پشاور کے واش رومزمکمل نہ ہو سکے

datetime 17  جنوری‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے 13 اگست 2020 کو بی آر ٹی پشاور کا افتتاح تو کر دیا مگر منصوبے کے نہ تو اسٹیشنز بیت الخلا مکمل ہو سکے اور نہ ہی منصوبے کے لیے آمدن کا ذریعہ بننے والے کمرشل پلازے مکمل ہو سکے۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت کا میگا پراجیکٹ بی آر ٹی منصوبے کو شروع

ہوئے 5 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگر بیشتر بس اسٹیشنز پر مسافروں کے لیے تاحال باتھ رومز تک نہیں بن سکے ہیں۔باتھ رومز میں واٹر اینڈ سینیٹریشن کا سامان نصب نہ ہونے کی وجہ سے خالی باتھ رومز گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں، اسٹیشنز پر موجود باتھ رومز کے نام پر خالی کمرہ شام ہوتے ہی پوڈریوں اور ہیرونچیوں کی آماج گاہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔منصوبہ کی آمدن میں اضافہ کے لیے تین کمرشل پلازے بھی تعمیر ہونا تھے جو ابھی تک نامکمل ہیںدوسری جانب ڈی جی پی ڈی اے کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹرز کے ساتھ درپیش مسائل کی وجہ سے تعمیراتی کام رکا ہوا تھا جو آیندہ 20 سے 25 دن میں دوبارہ شروع کر دیا جائے گا، باتھ رومز اور کمرشل پلازوں کا کام جلد مکمل کیا جائے گا۔دوسری طرف صوبائی وزیر سماجی بہبود خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر قیادت صوبائی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق محکمہ سوشل ویلفیئر نے صوبے کے خصوصی و مستحق افراد کو بہتر روزگار اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے اہم اقدامات لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کیلئے ابتدائی طور پر 67 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ان خیلات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر مختلف وفود اور نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے

کیا۔ اس موقع پر وفود نے محکمہ سوشل ویلفیئر میں جاری اصلاحات اور اقدامات کو سراہتے ہوئے صوبائی وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کی کاؤشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ صوبے کے چار پسماندہ اضلاع اپردیر، شانگلہ، ٹانک اور لکی مروت میں قرعہ اندازی کے ذریعے بارہ سو

خصوصی افراد کی استعداد کار میں اضافہ اور بزنس سپورٹ کے لئے پہلی بار جامع پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں جسکا دائرہ صوبے کے دیگر اضلاع تک مرحلہ وار بڑھایا جائیگا۔ خصوصی افراد و مستحق کو کارگو لوڈر، فصل کاٹنے، گندم پسائی اور آئس کریم بنانے والی مشین کی فراہمی کے علاوہ روزگار کے دیگر آلات اور مالی امداد دی

جائیگی جس سے انکی ماہانہ آمدن چالیس ہزار سے ساٹھ ہزار روپے تک بڑھ جائیگی، جس سے وہ اور انکا گھرانہ خوشحال زندگی بسر کرنے کے قابل ہو جائیگا۔ ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ بے سہارا اور کمزور لوگوں کی فلاح وبہبود ہمارا فرض ہے اور وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق انکی معیشت و فلاح وبہبود پر پہلی بار خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…