اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

اسمبلی سیشن کے دوران فضل الرحمن کی چڑھائی پرجنرل پاشا نے مولانا کی فارن فنڈنگ سے متعلق ایسا کیا انکشاف کیا کہ تمام ارکان اسمبلی کو چپ لگ گئی؟سینئر صحافی کا حیران کن انکشاف ‎

datetime 17  جنوری‬‮  2021 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میںسینئر تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ ہونا کچھ نہیں، جب ساڑھے چھ سال میں فیصلہ نہ ہوسکا، اس سے کیا نکلے گا؟ اگر کوئی فیصلہ ہوجاتا ہے تو ساری پارٹیاں فارغ ہوجائیں گی،جب میں رکن قومی اسمبلی تھا تو ان کیمرہ سیشن ہوا ،مولانا فضل الرحمن نے چڑھائی کردی ، اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ میں لیبیا کے فنڈز کا ذکر نہیں کرنا چاہتا،

کوئی وجہ نہیں صرف حد ادب ہے ،اس کے بعد مولانا کی زبان سے ایک لفظ نہ نکلا،ملک کو ٹھیک انداز میں چلانے پرڈائیلاگ ہونا چاہیے ،افغان جہاد نے پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا۔ پروگرام میں موجود سینئر صحافی سلمان غنی نے کہا ماضی کی اپوزیشن ایشوز پر باہر آتی تھی ،اس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے ،مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اس پر اپوزیشن کہاں ہے ؟ ان کا سارا زور فارن فنڈنگ پر ہے ،زیادہ سے زیادہ کیا سزا مل جائے گی،اگر سیاسی جماعتوں کو چندہ ملنے کا ہی نہیں پتا تو وہ کیا کررہی ہیں،دنیا میں ڈیموکریسی ڈلیور کرتی ہے یہاں پارلیمنٹ بند پڑی ہے ، ماہر سیاسیات ڈاکٹر سید حسن عسکری نے کہا ہمارے ہاں جو کچھ ہورہا ہے یہ پارٹیوں کے بڑوں کی انا کی جنگ ہے ،ادارے بدنام نہیں ہورہے ،یہ خود بدنام ہورہے ہیں،80کی دہائی میں باہر سے پیسہ آتا رہا ہے ،سب سے زیادہ پیسہ مذہبی جماعتوں کو ملا ۔اب سمندر پارپاکستانی اپنی جماعتوں کو پیسے بھیجتے ہیں، اسے قانونی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ سینئر تجزیہ کار چیف خاور گھمن نے کہا جب تک کورٹ میں نام نہیں پیش کیے جاتے اور ثبوت نہیں دئیے جاتے تب تک کچھ نہیں کہا جاسکتا ،سیاسی باتیں ہوتی رہتی ہیں ، وزیر اعظم نے بھی ایسی ہی بات کی ہوگی ۔اگر کوئی جماعت باہر سے پیسے لے کر ملکی سلامتی کیخلاف کام کرتی ہے ، تو اس پارٹی کو ختم کرسکتے ہیں، میرے خیال میں جن جماعتوں پر فارن فنڈنگ کا الزام ہے یہ ایسی سرگرمیوں میں شامل نہیں۔جہاں تک فارن فنڈنگ کی بات ہے تو باہر سے ورکرز اپنی پارٹیوں کو پیسے بھیجتے رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…