پاکستان میں خود کش دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں مارا گیا

  ہفتہ‬‮ 16 جنوری‬‮ 2021  |  18:16

کوئٹہ(آن لائن) افغانستان کے صوبہ کنٹر میں زور دار دھماکے میں کالعدم جماعت الااحرار کے 2 کمانڈر ہلاک ایک شدید زخمی ہوئے پاکستان میں خود کش دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ مانے جاتے ہیں اور اہم سرکاری عمارتوں پر حملوں کے علاوہ سینکڑوں پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی ہے تفصیلات کے مطابقافغانستان کے صوبہ کنٹر میں دھماکے سے ہلاک ہونے والوں میں کالعدم تنظیم کے مالیاتی کمیشن کا سربراہ نور گل عرف مسلم یار نائب امیر رشید عرف ماما شامل ہیں دہشت گرد کمانڈر پاکستان میں خود کش دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ مانے جاتے ہیں دہشت


گردوں نے اہم سرکاری عمارتوں پر حملوں کے علاوہ سینکڑوں پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی ہے دھماکہ سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے ہوا گاڑی مکمل تباہ ہوگی زخمی دہشتگرد وحید گل کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔دوسری جانب قائم مقام امریکی وزیر دفاع کرسٹوفر ملر نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق عراق اور افغانستان دونوں ملکوں میں امریکی افواج کی تعداد کم ہو کر اب 2500 رہ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ لامتناہی جنگوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ملر نے کہا کہ آج عراق میں قریب قریب قریب 20 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے قریب ہے۔ عراق میں امریکی فوج کی تعداد میں کمی عراقی فوج کی صلاحیتوں میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک عراق اور افغانستان میں امن کے حصول میں اہم پیش رفت، امریکیوں اور ان کیاتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے بعد وہاں تعینات افواج کی تعداد کو کم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ملر نے کہا کہ عراق میںامریکی فوج کی تعداد میں کمی عراقی سیکیورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ فوج کی تعداد کم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ داعش کی مسلسل شکست کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ اور بین الاقوامی اتحاد" عراق میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عراق میں انسداد دہشت گردی کے پلیٹ فارم کو برقرار رکھیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

میرے دو استاد

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ....مزید پڑھئے‎

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ....مزید پڑھئے‎