منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

عزیر بلوچ کو ایک اور مقدمے میں بری کردیا گیا

datetime 12  جنوری‬‮  2021 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو ایک اور مقدمے میں بری کر دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم عزیر بلوچ کو سخت حفاظتی انتظامات میں جوڈیشل کمپلیکس ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔قتل کے کیس میں عزیر بلوچ

سمیت 7 ملزمان کو نامزد کیا گیا جبکہ قتل کس نے کیا اس حوالے سے استغاثہ خاموش ہے۔عزیر بلوچ کے وکیل کے مطابق قتل کے مقدمے کا کوئی چشم دید گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ نامعلوم شہری کی لاش پولیس کو ملی لیکن مقتول کی کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ قتل کی واردات 13مارچ 2013 کو کلری کے علاقے میں ہوئی۔ عدم ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت نے عزیر بلوچ کو ایک اور مقدمے میں بری کر دیا۔یاد رہے کہ 7جنوری کو بھی کراچی کی عدالت نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو تین مقدمات میں بری کردیا تھا ۔ تفصیلات کے مطابق ایڈشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جوڈیشل کمپلیکس میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے خلاف کیسز کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت استغاثہ عزیر بلوچ کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔جس کے بعد عدالت نے عزیر بلوچ کو تین مقدمات میں بری کر دیا۔ عزیر بلوچ کو پولیس مقابلہ ، اقدام قتل اور ہنگامہ آرائی کے تین مقدمات میں بری کیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ شواہد کے

بغیر ملزم کو سزا نہیں دے سکتے۔ پراسیکیوشن ملزم کے خلاف گواہ پیش کرنے میں ناکام ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ ملزم اگر کسی اور کیس میں نامزد نہ ہو تو جیل سے رہا کیا جائے۔عزیر بلوچ کے شریک ملزمان پہلے سے ان مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ لیاری گینگ وار کے

سرغنہ عزیر بلوچ کے خلاف یکم اپریل 2012 کو تھانہ کلا کوٹ میں پولیس مقابلہ اور اقدام قتل کا مقدمہ درج تھا۔ پولیس کے مطابق عزیر بلوچ و دیگر 9 ملزمان کلا کوٹ کے علاقہ میں موجود تھے۔ ملزمان نے جان سے مارنے کی نیت سے پولیس پر حملہ کیا تھا ۔ ملزمان کی فائرنگ

سے اے ایس آئی عبد الوحید زخمی ہوا تھا۔پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزمان گلیوں میں فرار ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق پولیس پر حملے اور اقدام قتل کے دو مقدمات تھانہ چاکیواڑہ میں درج ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ پر 50 سے زائد مقدمات مختلف

تھانوں میں درج ہیں۔ یاد رہے کہ چار سال قبل سال قبل 30 جنوری 2016 کو رینجرز نے کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے لیاری گینگ وارکے سرغنہ عزیربلوچ کو گرفتار کر لیا تھا۔ ترجمان رینجرز نے بتایا تھا کہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو کراچی میں داخل ہوتے ہوئے مضافاتی علاقہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…