منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

گمراہ کن معلومات پھیلانے میں ملوث این جی اوز کیخلاف پاکستان نے اقوام متحدہ سے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

نیویارک(این این آئی) پاکستان نے اقوام متحدہ کی کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اقوام متحدہ کے ساتھ رکن ریاستوں کے مفادات اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کی مہم میں ملوث این جی اوز کے گروپ کی مشاورتی حیثیت کا جائزہ لے۔اقوام متحدہ میں پاکستان

کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز این جی اوز سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کے چیئرمین محمد سلام آدم کو بھیجے گئے خط میں یورپین یونین کی آزاد اور غیر منافع بخش تنظیم ڈس انفو لیب کی جانب سے چونکا دینے والے انکشافات پر توجہ دلائی جس میں لیب نے گزشتہ ماہ کم از کم 10 این جی اوز کی جانب سے اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی)کے ساتھ مشاورتی حیثیت کے ذریعے 15 سال سے جاری غلط اور گمراہ کن معلومات کی مہم سے متعلق رپورٹ میں انکشاف کیا تھا۔اس مہم کا مقصد یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی باڈیز میں بھارتی ایجنڈے کی حمایت اور اس کے فروغ اور پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاناہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ جیسا کہ کمیٹی کا مینڈیٹ اقوام متحدہ کے ساتھ این جی اوز کے تعلقات کو ریگولیٹ کرنا ہے، اس لیے وہ آئندہ سیشن میں غلط معلومات کی مہم میں ملوث ان این جی اوز کی مشاورتی حیثیت جائزہ لینے کے لیے اقدامات کرے اور اس اہم مسئلے پر بات کرے۔منیر اکرم نے خط میں کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ کمیٹی جعلی این جی اوز کی جانب سے مستقبل میں ایسے ایجنڈے اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے اپنے طریقہ کار کا فوری جامع جائزہ لے کیونکہ جعلی این جی اوز شناخت کی چوری ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اداروں سے جعل سازی مردہ افراد اور

غیرفعال این جی اوز کے نام پر دھوکہ دہی اور اقوام متحدہ کی تقریبات تک رسائی حاصل کرنے اور تخریبی سرگرمیوں کے لیے مشکوک اسناد کی تخلیق کا استعمال کرتی ہیں جبکہ ان این جی اوز کے پیچھے موجود نیٹ ورک نے اپنی سرگرمیاں کو بڑھاوا دینے ، پروپیگنڈے اور جعلی خبروں کو پھیلانے کے لئے 750 سے زیادہ  جعلی میڈیا آٹ لیٹس اور 550 ویب سائٹ ڈومین نام بھی بنائے۔انہوں نے کہا کہ این جی او کی کمیٹی کو یہ ذمہ داری

سونپی گئی ہے کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کی باضابطہ نگرانی کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان کی شمولیت جذبے، مقاصد اور اصولوں پر مشتمل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق رہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستانی مندوب نے این جی او کمیٹی کو اس بات کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا کہ کسی بھی جعلی اور مشکوک این جی اوز کی چھوٹی سی بھی تعداد کو این جی او کمیونٹی اور دیگر کے جائز اور قابل احترام ممبران کی ساکھ کومتاثر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…