وزیراعظم کو کونسی چیز مظلوموں سے ملنے سے روک رہی ہے؟ کیا عمران خان کی انا آرمی چیف سے زیادہ بڑی ہے؟احسن اقبال کا استفسار

  جمعہ‬‮ 8 جنوری‬‮ 2021  |  23:23

کراچی(این این آئی)سابق وزیر داخلہ اور ن لیگ کے سینئر رہنما احسن اقبال نے استفسار کیا ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کی انا آرمی چیف سے زیادہ بڑی ہے؟کراچی میں مریم نواز کی پریس کانفرنس کے دوران صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہمارے دور حکومت بھی ہزارہ برادری کے ساتھ ایک درد ناکواقعہ رونما ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر مظاہرین نے آرمی چیف سے ملاقات کا مطالبہ کیا، میں بطور وزیر داخلہ آرمی چیف کے ساتھ لواحقین سے ملاقات کے لیے گیا۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ صرف


لواحقین کی تسلی کے لیے آرمی چیف اگر وزیر داخلہ کے ساتھ کوئٹہ جاسکتے ہیں تو وزیراعظم کو کونسی چیز مظلوموں سے ملنے سے روک رہی ہے؟دوسری جانب مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر تکبر اور ہٹ دھرمی کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ عمران خان جیسا ہوتا۔ ہزارہ برداری سے متعلق وزیرا عظم کا بیان انسانیت سے عاری ہے۔میں سلیکٹرز سے بھی سوال کرتی ہوں کہ کیا 22 کروڑ عوام میں یہ ہی ایک سوغات ملی تھی'۔موجودہ حکومت کی پے در پے غلطیوں پر عوام اب سلیکٹرز سے جواب طلب کررہے ہیں'۔ کیا سلیکٹرز جانتے ہیں کہ ان کے انتخاب کی وجہ سے برادر دوست ناراض ہوئے، خارجہ پالیسی برباد کردی، گورننس کا ستیاناس کیا اور اب مظلوموں کو بلیک میلرز کا لیبل دے کر انسانیت کی توہین کی جارہی ہے ۔جس کو کوئٹہ جانے کی اجازت نہیں مل رہی اسکی کیا حیثیت این آر او دینے کی،وزیراعظم کے پاس کتوں سے کھیلنے اورڈرامے دیکھنے کاوقت ہے،متاثرین سے بات کرنے کا نہیں۔ ہزارہ برداری سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنے پیاروں کو دفنادیں کیونکہ جس انسان سے آپ امید لگائےبیٹھے ہیں اس کے سینے میں دل نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعہ کو سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی رہائش گا ہ پرپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگ زیب ،سینیٹر پرویز رشید ،احسن اقبال ،رانا ثناء اللہ ،سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان ،خواجہ طارق نذیر ،علی اکبر گجر اور دیگر بھی موجود تھے ۔ مریم نواز نے کہا کہ ہزارہ برادری پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ہم لوگ گزشتہ روز انھیں دلاسہ دینے گئے تھے، اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎