پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اوگرا نے تیل بحران پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ مسترد کر دی، چیلنج کرنے کااعلان

datetime 20  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن ) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ( اوگرا )نے تیل بحران پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کے خلاف تمام فورمز سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے تیل بحران پر انکوائری رپورٹ کوچیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے اور رپورٹ کے خلاف تمام قانونی ودیگر متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

اوگرا اتھارٹی نے رپورٹ بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے دی۔ترجمان اوگرا نے کہا ہے کہ انکوائری رپورٹ کا مواد ثابت ہونا ابھی باقی ہے رپورٹ کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، ترجمان کے مطابق رپورٹ میں اوگرا پرلگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔یاد رہے کہ پیٹرول کی قلت پر بنائے گئے پیٹرولیم کمیشن کی تحقیقات میں سیکرٹری پیٹرولیم اور ڈی جی آئل کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈی جیآئل غیر قانونی طور پر کوٹہ مختص کرنے میں ملوث ہیں، ان کے علاوہ سیکرٹری پیٹرولیم کے بحران میں کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیاجا سکتا، کمیشن نے دونوں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔ ۔انکوائری کمیشن نے بعض مارکیٹنگ کمپنیوں کے لائسنس کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ کمپنیوں کے پاس آئل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے،20 دن تک تیل ذخیرہ نہ کرنیکی مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،کمپنیوں سے 20 دن تک تیل ذخیرہ نہ کروانا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ناکامی ہے۔کمیشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل15دن کی بجائے30دن میں کرنیکی سفارش کردی ہے اور وزارت پیٹرولیم میں مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ کمپنیوں سے روزانہ اورماہانہ بنیادوں پر ذخیرے سے متعلق ڈیٹا حاصل کیا جائے۔رپورٹ میں کمیشن کی جانب سے اوگرا کو تحلیل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ 6مہینوں میں قانون سازی کرکے اوگرا کو تحلیل کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…