پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

گندم ،چینی اور گیس کی خریداری میں تاخیر سے عوام پر کھربوں کا بوجھ پڑا ،تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 20  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی ( آن لائن )ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گندم، چینی اور ایل این جی کی بروقت خریداری میں ناکامی اور منافع خوری کا سدباب نہ کرنے کی وجہ سے عوام پر کھربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے جبکہ دیگر مختلف کارٹیلز بھی

عوام کو مسلسل لوٹنے میں مصروف ہیں۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گندم اور چینی کے بحران کے ذریعے عوام کی جیب سے کئی کھرب روپے نکلوا لئے گئے جبکہ سبزی اور پولٹری کی قیمت میں بھی بار بار اضافہ ہو رہا ہے۔گندم کے بعد ایل این جی کا بحران آیا ہے اور جنوری میں ایل این جی کے کارگو کیلئے جو قیمت ادا کی جائے گی وہ ایشیاء میں گزشتہ چھ سال کا ایک ریکارڈ ہو گا کیونکہ ایل این جی کے کارگو موسم گرما میں بک نہیں کئے گئے اور ہنگامی خریداری کا سارا بوجھ عوام پر پڑے گا جبکہ اس سے پیداواری اور برآمدی شعبے متاثر ہونگے۔گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ بھی 350 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ گیس کے اہم محکمے کسی سربراہ کے بغیر ہی چلائے جا رہے ہیں۔گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو توڑ کر اگر ضلعی یا ڈویژن کی سطح پر چھوٹی کمپنیاں بنائی جائیں تو شاید نقصانات کم ہو جائیں مگر اس تجویز پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔اسی طرح نجی شعبے کو گیس درآمد نہیں کرنے دی جا رہی جو عوام کوسستی گیس سے محروم رکھنے کی سازش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایل این جی کے بعد بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کا بحران عوام کا منتظر ہے۔تمام تر دعووں اور توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اعلیٰ حکام کے رد و بدل کے باوجود گردشی قرضہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا ہے

جبکہ اسکے حل کے لئے کوئی قابل عمل پلان موجود ہی نہیں ہے جسکی غیر موجودگی میں آئی ایم ایف سے قرضے کی بحالی ناممکن ہے۔گردشی قرضہ ڈھائی کھرب روپے تک پہنچ کر معیشت کے لئے حقیقی خطرہ بن رہا ہے مگر اسے حل کرنے کی کوششیں، بیانات ،دعووں اور واٹس ایپ تک محدود

ہیں جبکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اگر بجلی کی قیمت جس میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے مزید بڑھائی گئی تو اس سے افراط زر بڑھے گاجبکہ سبسڈی دی گئی تو حکومت کا خسارہ بڑھے گا جبکہ آئی ایم ایف کی موجودگی میں سبسڈی دینا بہت مشکل کام ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…