پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد کا چڑیا گھر بند کر دیا گیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن )وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا آخری چڑیا گھر بھی باقی جانوروں کی بیرون ملک منتقلی کے بعد بند کردیا گیا۔ چڑیا گھر میں دو ہمالین ریچھ ‘ببلو’ اور ‘سوزی’ وہ آخری دو جانور تھے جنہیں کاون کی کمبوڈیا منتقلی سے تقریباً تین ہفتے بعد اس چڑیا گھر سے منتقل کیا گیا۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان سلیم شیخ نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کو بتایا کہ

‘اسلام آباد کا چڑیا گھر عوام اور عملے سب کے لیے مکمل بند کردیا گیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘دونوں ریچھوں کو اردن میں محفوظ مقام پر منتقل کردیا جائے گا’۔سلیم شیخ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام فور پوز انٹرنیشنل کی مدد سے اٹھایا گیا ہے، اسی گروپ کی سربراہی میں کاون کی محفوظ منتقلی کی گئی تھی، جبکہ گلوکارہ و آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ چیر بھی اس عمل میں پیش پیش رہیں۔ وہ پہلے کاون کی روانگی کے لیے پاکستان پہنچیں اور پھر کمبوڈیا پہنچنے پر اس کا استقبال کیا۔اسلام آباد کے چڑیا گھر میں 35 برس کا طویل عرصہ گزارنے والے کاون کی گرتی ہوئی صحت سے چڑیا گھر کی خراب صورتحال سامنے آئی، جہاں کی صورتحال اتنی خراب تھی کہ مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کے تمام جانوروں کی منتقلی کا حکم دیا تھا۔جانوروں کی منتقلی کے دوران 2 شیر اور ایک شتر مرغ انتظامی غفلت کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ اسلام آباد کا یہ چڑیا گھر 1978 میں 10 ہیکٹر رقبے پر قائم کیا گیا تھا اور وہاں قیمتی جانور رکھے گئے تھے۔انتظامیہ اب اسے جنگلی حیات کے تحفظ کا مرکز بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔جانوروں کی حفاظت و بہبود کے لیے قوانین نہ ہونے کے باعث پاکستان بھر میں چڑیا گھروں کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ سال 2018 میں پشاور میں نئے چڑیا گھر کھلنے کے چند ماہ کے اندر ہی تقریباً 30 جانور ہلاک ہوگئے تھے، جس میں برفانی چیتے کے 3 بچے بھی شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…