چیف جسٹس کا وفاقی دارالحکومت میں 500 پبلک ٹوائلٹس بنانے کا حکم

  پیر‬‮ 14 دسمبر‬‮ 2020  |  22:56

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے وفاقی دارالحکومت میں 500 پبلک ٹوائلٹس بنانے کا حکم دیا ہے۔ماحولیاتی آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نےاستفسار کیا کہ اسلام آباد میں پبلک ٹوائلٹس کا کیا بنا؟ جس پر کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ 100 پبلک ٹوائلٹس بنا رہے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ 100 ٹوائلٹس سے کیا ہو گا؟ سڑک کے ساتھ ہر ایک کلو میٹر کے بعد پبلک ٹوائلٹ ہونا چاہیے۔کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ 100


میں سے 10 بنا دیے ہیں، باقی ٹوائلٹ بنائیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں 500 پبلک ٹوائلٹس بنائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلیو ایریا میں سروس روڈ پر پارکنگ ایریا بنا ہوا ہے، سڑک کے قریب پارکنگ کی اجازت نہیں ہو گی۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں شاپنگ مالز اور مارکیٹس میں پارکنگ ایریا نہیں ہے، شاپنگ مالزختم کر دیں یا ان سے کہیں اپنی پارکنگ کی جگہ بنائیں۔انہوں نے کہا کہ بلیو ایریا میں نئی عمارتیں بن رہی ہیں، شاید ان میں پارکنگ کی جگہ نہیں رکھی گئی، جس پر کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے تمام نئی بلڈنگ مالکان سے کہہ دیا ہے کہ اپنی پارکنگ بنائیں۔کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ پارکنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے ماہرین کی خدمات لے رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ اس کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کریں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎