جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

کراچی ڈی ایچ اے فیز 4 مبینہ پولیس مقابلہ بنگلے کی خواتین کے دوران گفتگو تہلکہ خیزانکشافات

datetime 1  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 4 میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کی تحقیقات جاری ہیں ،تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ کا ایک بارپھر دورہ کیا جبکہ مقابلے میں حصہ لینے والی پولیس ٹیم اور ہلاک ملزمان کے لواحقین کے بیانات بھی قلمبند کیے جارہے ہیں ۔کراچی ڈیفنس مبینہ پولیس مقابلے میں 5 ملزمان کی ہلاکت کے معاملے کی

تفتیش کا عمل اب تک جاری ہے ، تفتیش سٹی انوسٹی گیشن کو منتقل ہونے کے بعد حکام نے جائے وقوعہ کا ایک  اور دورہ کر کے آس  پاس لگے سی سی ٹی وی  پوائنٹس کا جائزہ لیا  اور گزری پولیس کا مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا جبکہ مقابلے میں حصہ لینے  والی پولیس ٹیم اورہلاک ملزمان کے ورثا کے  بیانات لینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔مبینہ مقابلے میں ہلاک ملزمان میں سے ایک ڈرائیور عباس ہے جس کی مالکن اور پی ٹی آئی رہنما لیلی پروین کا کہنا ہے کہ ان کے ڈرائیور عباس کا پوسٹمارٹم کیا جائے تا کہ اس کی باڈی کو تدفین  کیلئے آبائی علاقے رحیم یار خان بھیجا جاسکے جس کے بعد وہ خود بھی پولیس کو اپنا  بیان ریکارڈ کرائیں گی ۔دوسری جانب مقابلے میں ہلاک ملزم عباس کی تاحال  لاش نہیں مل سکی ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ کا موقف ہے پولیس احکامات کے بعدلاش ورثا کے حوالے کی جائے  گی۔دریں اثناء مبینہ پولیس مقابلے کے 15 گھنٹے بعد رہا کی گئی بنگلے کی خواتین نے انکشافات کیاہے کہ جمعے کی رات ساڑھے 4 بجے 10 سے 15 پولیس اہلکار بنگلے میں آئے،جنہوں نے ڈرائیور عباس سے گاڑی کی چابی لی اور اسے ایک اور گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔خواتین نے بتایا کہ ہمیں دوسری گاڑی میں بٹھایا گیا جس کے 10،15 منٹ بعد فائرنگ شروع ہو گئی، ہمیں 15 گھنٹے سے زائد تک پہلے تھانے اور پھر ایک بند کمرے میں رکھا گیا۔خواتین نے کہاکہ تھانے میں ڈرائیور عباس سے متعلق پوچھا گیا، موبائل فون بھی لے لیے گئے، اس رات ہمارے گھر کوئی ڈکیت نہیں آئے، ڈرائیورعباس کو بے گناہ مارا گیا۔خواتین نے بتایاکہ مقابلے کے بعد پولیس پوری گلی کی سی سی ٹی وی ویڈیو اپنے ساتھ لے گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…