جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

ڈیفنس فیز 4 میں ہونے والا پولیس مقابلہ مشکوک،2 افراد وکیل اور پی ٹی آئی رہنما کے ڈرائیورہیں؟ وکیل کا کزن اور والدہ سے رابطہ نہ ہونے کا بھی انکشاف

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ڈیفنس فیز 4 میں ہونے والا پولیس مقابلہ مشکوک ہو گیا،مارے گئے مبینہ ملزمان میں سے دو افراد وکیل اور پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کے ڈرائیور ہیں۔ڈیفنس فیز 4 کے گھر کے مالک علی حسنین نے مقابلہ جعلی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ میں اپنی اہلیہ کی ساتھ اسلام آباد میں ہوں۔انہوں نے بتایا کہ میں سندھ ہائی کورٹ کا وکیل ہوں۔جس بنگلے پر مقابلہ ہوا اسکے عقب میں میرا

بنگلہ ہے۔گھر پر میری والدہ اور کزن موجود تھی، پڑوسی بھی عینی شاہد ہیں۔صبح چھ بجے کے قریب پولیس میرے بنگلے پر آئی، میرا ڈرائیور عباس گزشتہ پانچ برسوں سے میرا ملازم اور شریف انسان تھا۔پولیس کی جانب جعلی مقابلے میں مارے گئے دیگر افراد کو میں نہیں جانتا، ڈرائیور کو گھر سے لے جانے پر میری والدہ اور پڑوسی نے مزاحمت کی کوشش بھی کی تھی۔پولیس نے میری والدہ سے بدتمیزی بھی کی۔میرے بنگلے میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں۔اگر پولیس کی جانب سے فوٹیج ضائع نہ کی گئی تو تمام حقائق سامنے آجائیں گے۔چھپا کی جانب سے جاری کی گئی تصویروں سے پتہ چلا کہ پولیس نے میرے ڈرائیور کو مار دیا ہے۔ گھر میں موجود گاڑی بھی میری ہے۔ میری والدہ اور کزن سے کوئی رابطہ نہیں ہوپارہا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی پہنچ کر آگے کی کارروائی کروں گا۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما لیلی پروین نے کہا کہ میرا ڈرائیور بے گناہ ہے۔ ڈرائیور کو گزشتہ رات پولیس نے گھر سے اٹھایا تھا۔ میری گاڑی کو بھی پولیس والے اپنے ساتھ لے گئے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے گاڑی لے جانے کی سی سی ٹی وی موجود ہے۔ پولیس مقابلہ جعلی ہے، شدید تحفظات ہیں۔ایس ایس پی ساؤتھ نے موقف اپنایاکہ پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا، پولیس کے پاس مارے گئے تین افراد کا کرمنل ریکارڈ موجود ہے۔ پچھلے تین سالوں سے یہ گینگ لوٹ مار میں ملوث تھا۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کی موجودگی پر پولیس نے چھاپہ مارا۔ مارے گئے ملزمان کا کال ریکارڈ موجود ہے۔ اگر کسی کو تحفظات ہیں تو قانونی راستہ اختیار کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…