اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

ڈیفنس فیز 4 میں ہونے والا پولیس مقابلہ مشکوک،2 افراد وکیل اور پی ٹی آئی رہنما کے ڈرائیورہیں؟ وکیل کا کزن اور والدہ سے رابطہ نہ ہونے کا بھی انکشاف

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ڈیفنس فیز 4 میں ہونے والا پولیس مقابلہ مشکوک ہو گیا،مارے گئے مبینہ ملزمان میں سے دو افراد وکیل اور پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کے ڈرائیور ہیں۔ڈیفنس فیز 4 کے گھر کے مالک علی حسنین نے مقابلہ جعلی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ میں اپنی اہلیہ کی ساتھ اسلام آباد میں ہوں۔انہوں نے بتایا کہ میں سندھ ہائی کورٹ کا وکیل ہوں۔جس بنگلے پر مقابلہ ہوا اسکے عقب میں میرا

بنگلہ ہے۔گھر پر میری والدہ اور کزن موجود تھی، پڑوسی بھی عینی شاہد ہیں۔صبح چھ بجے کے قریب پولیس میرے بنگلے پر آئی، میرا ڈرائیور عباس گزشتہ پانچ برسوں سے میرا ملازم اور شریف انسان تھا۔پولیس کی جانب جعلی مقابلے میں مارے گئے دیگر افراد کو میں نہیں جانتا، ڈرائیور کو گھر سے لے جانے پر میری والدہ اور پڑوسی نے مزاحمت کی کوشش بھی کی تھی۔پولیس نے میری والدہ سے بدتمیزی بھی کی۔میرے بنگلے میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں۔اگر پولیس کی جانب سے فوٹیج ضائع نہ کی گئی تو تمام حقائق سامنے آجائیں گے۔چھپا کی جانب سے جاری کی گئی تصویروں سے پتہ چلا کہ پولیس نے میرے ڈرائیور کو مار دیا ہے۔ گھر میں موجود گاڑی بھی میری ہے۔ میری والدہ اور کزن سے کوئی رابطہ نہیں ہوپارہا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی پہنچ کر آگے کی کارروائی کروں گا۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما لیلی پروین نے کہا کہ میرا ڈرائیور بے گناہ ہے۔ ڈرائیور کو گزشتہ رات پولیس نے گھر سے اٹھایا تھا۔ میری گاڑی کو بھی پولیس والے اپنے ساتھ لے گئے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے گاڑی لے جانے کی سی سی ٹی وی موجود ہے۔ پولیس مقابلہ جعلی ہے، شدید تحفظات ہیں۔ایس ایس پی ساؤتھ نے موقف اپنایاکہ پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا، پولیس کے پاس مارے گئے تین افراد کا کرمنل ریکارڈ موجود ہے۔ پچھلے تین سالوں سے یہ گینگ لوٹ مار میں ملوث تھا۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کی موجودگی پر پولیس نے چھاپہ مارا۔ مارے گئے ملزمان کا کال ریکارڈ موجود ہے۔ اگر کسی کو تحفظات ہیں تو قانونی راستہ اختیار کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…