اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

ریاست عام شہریوں کے بجائے صرف اشرافیہ کی خدمت کر رہی ہے،اس بیوہ سے 50 سال سے یہ کام ہو رہا ہے، کیا جواز بتائیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ ریاست عام شہری کا تحفظ نہیں کر رہی صرف ایلیٹ کلاس کی خدمت کر رہی ہے،شہری انصاف لینے نکلیں تو تکنیکی رکاوٹوں میں الجھ کر تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں،آئینی عدالت نے عوامی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، شہریوں کے بنیادی حقوق یقینی بنانا ہونگے، پچاس سال سے جس بیوہ کو اپنی ہی زمین کے بدلے پلاٹ نہیں

مل رہا اسے کیا جواز بتائیں؟۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی دارالحکومت میں نئے سیکٹرز کی تعمیر سے متاثر ہونیوالے شہریوں کو معاوضوں کی عدم ادائیگی کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر سطح پر مفادات کا ٹکراؤ سامنے آ جاتا ہے، ریاست کو تو شہریوں کی حفاظت کرنی چاہئے تھی، لیکن مسئلہ یہ ہے ریاست عام شہری کا تحفظ نہیں کر رہی، صرف ایلیٹ کلاس کی خدمت کر رہی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کی انصاف تک رسائی کی راہ میں ہر جگہ رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں، شہری انصاف لینے نکلیں تو تکنیکی رکاوٹوں میں الجھ کر تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، حکام ان شہریوں کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیں جنہیں اپنی زمینوں سے نکال کر بے گھر کر دیا گیا، خود سوچیں آپ کے گاؤں کی پوری زمین حکومت زبردستی لے اور آپ کو ڈی سی ریٹ پر ادائیگی کر دے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی کی زمین سرکاری تحویل میں لینے کیلئے بین الاقوامی اصول موجود ہیں، یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے جن کی زمینیں لی گئیں وہ متاثرین ہمارے لئے اہم ہیں، آئینی عدالت نے عوامی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، شہریوں کے بنیادی حقوق یقینی بنانا ہونگے، پچاس سال سے جس بیوہ کو اپنی ہی زمین کے بدلے پلاٹ نہیں مل رہا اسے کیا جواز بتائیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…