’’نواز شریف کی شہباز شریف سے بات ہوئی تو دونوں آبدیدہ تھے‘‘ ن لیگی سینئر رہنما عطاء تارڑ نے دونوں بھائیوں کی کیفیت بیان کر دی

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  21:05

لاہور(این این آئی)مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ محترمہ بیگم شمیم اختر کا جسدخاکی پاکستان آنے میں دو سے تین روز لگ سکتے ہیں کیونکہ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جسد خاکی کس فلائٹ سے پاکستان پہنچائی جائے گی،وزیرقانون نے دونوں بھائیوں میں ٹیلیفونک گفتگو کاانتظام کرایاہے اور شہباز شریف اپنے بھائی سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے،کوشش ہے شہباز شریف کی پیرول پر رہائی تدفین سے ایک روز قبل شروع ہو اور تعزیت کیلئے آنے والوں سے ملاقاتوں کیلئے کم ازکم دوہفتوں کی رہائی دی جائے۔ کوٹ لکھپت جیل


کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محترمہ بیگم شمیم اختر کے انتقال کے بعد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو جیل میں ایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور دونوں انتہائی رنجیدہ تھے۔ وزیر قانون راجہ بشارت نے جیل قوانین کے تحت نواز شریف اور شہباز شریف میں ٹیلیفونک رابطے کا بھی انتظام کرایا، شہباز شریف اپنے بھائی سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب شریف برادران کے والدمحترم میاں محمد شریف کا انتقال ہوا تواس وقت وہ جلا وطن تھے اور تدفین کے عمل میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔یہ انتہائی غم کی گھڑی ہے اورقوم سے اپیل ہے کہ مرحومہ کی مغفرت کے لئے اور شریف خاندان کی آسانی کیلئے دعا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیرقانون راجہ بشارت سے رابطے میں ہیں،کوشش ہے کہ شہباز شریف کی پیرول پر رہائی جسد خاکی آنے سے ایک روز قبل شروع ہوکیونکہ انہوں نے انتظامات بھی دیکھنے ہیں اور انہیں کم ازکم دوہفتوں کی رہائی دی جائے تاکہ وہ ملک بھر سے تعزیت کیلئے آنے والوں سے ملاقات کرسکیں۔انہوں نے بتایاکہ نمازجنازہ شریف میڈیکل سٹی میں پڑھائی جائے گی جبکہ تدفین جاتی امراء میں میاں محمد شریف مرحو م کی قبر کے ساتھ مختص جگہ پر کی جائے گی۔‎


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈیڈ اینڈ

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎