اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

’’ آپ سب کو غداروں کے کلب میں شمولیت مبارک ہو‘‘ غداری کا الزام ہمیشہ کس انسان پر لگایا جاتا ہے؟اختر مینگل کا اہم اعلان

datetime 18  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں مزار قائد کے سائے میں بلوچ، پختون، سندھی اور پنجابی لیڈرشپ آئین کی بالا دستی کی بات کر رہی ہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ بی این پی مینگل کے سربراہ ⁦نے کہا کہ جس پر غداری کا الزام لگتا ہے وہ دراصل اپنی سرزمین کا وفادار ہوتا ہے آپ سب کو غداروں کے کلب میں شمولیت مبارک ہو۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہاہے کہ ہم جمہوریت چاہتے ہیں مگر وہ جمہوریت جو مجھے ضمانت دیکہ میری ماں بہنوں کی عزت ہوگی،جس میں مسخ شدہ لاشیں نہ ملیں،جس میں بزرگوں کی پگڑیاں نہ اچھالی جائیں،جس میں مجھے برابر کا شہری سمجھا جائے۔پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ سانحہ کارساز کے شہید ہونے والے تمام شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں،25 اکتوبرکوکوئٹہ میں تمام قائدین کوخوش آمدید کہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم توستربرس سے ان کی نظرمیں غدارہیں،محترمہ فاطمہ جناح کوبھی غدارقراردیا گیا،جنہوں نے آئین کوتوڑا وہ کیوں غدارنہیں تھے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے بعد کوئٹہ،ملتان کا جلسہ ہوگا تو کون کون غدار قراردیئے جائینگے،موجودہ حکومت کیساتھ 2018سے الائنس ہے،خدشات کے باوجودنبھارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ لوگ جمہوری جدوجہد کیلئے لڑتے ہیں،ان لوگوں نے محترمہ فاطمہ جناح پر بھی غداری کے الزام لگائے تھے،جن لوگوں نے اپنی سرزمین اور رشتہ داروں سے وفا نہیں کی ان کے متعلق بانی پاکستان سے سوال کرنے پر حق بجانب ہوں کہ یہ ریاست بنائی کیوں گئی تھی،کیا چھوٹی ریاستوں کو شامل کرنے کیلئے وعدہ نہیں کیا گیا کہ عدلیہ آزاد اور پارلیمنٹ بالادست ہوگی میڈیا آزاد ہوگی تو یہ وعدہ کہاں ہے،یہی جمہوریت ہے کہ منتخب وزیر اعظم کو پھانسی اور جلاوطن کیا جاتا ہے،ایسی جمہوریت چڑیا گھر میں بھی نہیں دیکھی،عدلیہ آزاد ہوتی تو جسٹس افتخار چوہدری کو گھسیٹا نہیں جاتا،میڈیا آزاد ہوتا تو کوئی صحافی پابند سلاسل نہیں ہوتا،آزاد یہاں وہ ہیں جنہوں نے مزدوروں کو قتل اور آئین کو پامال کیا،ہم نکلتے ہیں گھر سے تو اپنی حفاظت کیلئے اسلحے کے ساتھ نکلتے ہیں یہ آزادی نہیں،یہاں کی عوام اپنے بچوں کے تحفظ کی محتاج ہے ایسی جمہوریت ہم نے نہیں دیکھی،عوام سگنل توڑے تو چالان ہوجاتے ہیں کوئی قانون توڑے تو ایف آئی آر داخل ہوتی ہے،ملک میں کئی دفعہ آئین توڑا گیا،آئیں بنانے والے اگر قدر نہ کریں گے تو کون کریگا،یہ ملک عوام کیلئے بنایا گیا ہے یا ایلیٹ کیلئے،کیا یہ ملک انکے لئے بنایا گیا ہے جو ڈالر بناکر بیرون ملک چلے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…