جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

محکمہ ریلوے نے وزیر اعظم کے حلقے میں تمام ریلوے ٹرینز کو فروخت کر دیا،تمام ٹرینز نجی شعبے کے حوالے

datetime 28  ستمبر‬‮  2020 |

کالاباغ)آن لائن) محکمہ ریلوے نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے حلقے سے چلنے اور گزرنے والی تمام ریلوے ٹرینز کو فروخت کر دیاتمام ٹرینز کو نجی شعبے کے حوالے کر کے نئے ناموں سے چلا دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق چند ماہ

پہلے پشاور سے کراچی جانے والی خوشحال ایکسپریس جو میانوالی سے رات کے وقت گزرتی تھی اس ٹرین کو محکمہ ریلوے نے ایس جمیل اینڈ کمپنی نے حوالے کر دیاجبکہ پاکستان بننے سے پہلے ماڑی انڈس سے اٹک چلنے والی ریلکار کا نام جنڈ ایکسپریس ، اٹک ایکسپریس تبدیل کرکے نجی شعبے کے حوالے کر کے ایس جمیل اینڈ کمپنی نے زیر اہتمام چلا دیا گیااور اس کے علاوہ گزشتہ روز راولپنڈی سے ملتان کو جانے والی عطااللہ ایکسپریس :مہر ایکسپریس کو ایس جمیل اینڈ کمپنی کے حوالے کرکے اس ٹرین کی بھی نجکاری کر دی گئی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ریلوے لائن ریلوے کی ، ریلوے انجن ریلوے کے ، ڈرائیور ریلوے کے ، پولیس ریلوے کی اور باقی تمام اسٹیشنوں کا سسٹم ریلوے کا اور صرف اور صرف ٹکٹ گھر ، ٹکٹ چیکر اور کیش کا سسٹم نجی شعبے کے حوالے کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…