عائشہ رجب معاملہ رانا ثنا اللہ نے طلال چودھری کو بڑی مشکل میں ڈال دیا

  پیر‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2020  |  14:23

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی اور وی لاگر ملیحہ ہاشمی نے اپنے حالیہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ ن لیگ میں شہباز شریف اور مریم نواز کے حامی لیگی رہنمائوں کے مابین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ملیحہ ہاشمی نے کہا کہ پہلےتو ن لیگ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تھا مگر اب رانا ثنا اللہ یہ بات مان گئے ہیں کہ طلال چودھری کو لیگی خاتون ایم این اے کے گھر داخلے کی کوشش کرتے ہوئے مار پڑی ہے۔طلال چودھری سے متعلق ملیحہ ہاشمی نے کہا کہ ان کو عمران


خان کے خلاف جارحانہ انداز گفتگو کی وجہ سے خاص مقام حاصل تھا اور اسی وجہ سے مریم نواز بھی ان سے کافی خوش تھیں کیونکہ وہ عمران خان اور دیگر ن لیگ کے مخالفین کے خلاف خاص طریقے سے بدتمیزی کرنے کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔رانا ثنااللہ نے اپنے بیان میں یہ ضرور کہا ہے کہ عائشہ رجب کے بیٹے اور گارڈ نے طلال چودھری کو مارا ہے جبکہ دوسری جانب میڈیا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ عائشہ رجب کے بھائیوں نے طلال چودھری کی پٹائی کی ہے۔ملیحہ ہاشمی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ طلال چودھری کے معاملے پر ن لیگ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا اور مریم اورنگزیب، حنا پرویز بٹ اور مریم نواز کے قریب رہنے والے دیگر لیگیرہنمائوں کی جانب سے آف دی ریکاڈ بیانات سامنے آئے ،کسی نے کہا کہ ایکسیڈنٹ ہوا ہے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا۔ملیحہ ہاشمی نے کہا کہ اس مسئلے پر بات کرنے کا مقصد کسی کی نجی زندگی میں دخل دینا نہیں ہے بلکہ وہ اس معاملے پر بات اس لیے کر رہی ہیں کیونکہجب لوگ کرپشن کے خلاف باہر نکلتے ہیں تو مذہب کارڈ کھیل کر ان باعزت گھرانوں کو سیاست کی نذر کر دیا جاتا ہے اور ان کے کرداروں پر سوال کھڑے کیے جاتے ہیں۔ملیحہ ہاشمی نے کہا کہ جب تحریک انصاف کے دھرنوں اور احتجاج کے دوران خواتین باہر نکلیں تومولانا فضل الرحمان اور ن لیگ کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ بے حیائی ہے مگر جب مریم نواز خود جلسے سے خطاب کریں اور عجیب و غریب زبان استعمال کریں تو اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔دوسری جانب رانا ثنا اللہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ معاملے کی انکوائری جاری ہے ، ایک دو روز میں فیصلہ ہو جائیگا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎