عاطف نے والد کو اپنا جگر ”ڈونیٹ“ کرنے کا اعلان کر دیا ڈاکٹروں نے بھی سمجھایا مگر یہ باز نہ آیا، دونوں زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں لیکن بیٹانہ مانا ، پچاس لاکھ روپے خرچ ہوئے‘ بارہ گھنٹوں کے آپریشن کے بعد کیا واقعہ رونما ہوا ؟ بیٹے کی باپ سے محبت کی داستان ، جاوید چودھر ی کے تہلکہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 23 ستمبر‬‮ 2020  |  14:41

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’ہم قدم ارطغرل کے مزار پر‘‘ میں لکھتے ہیںکہ ۔۔۔۔عاطف نواز راولپنڈی کی مکہ مارکیٹ میں دوپٹوں کا کام کرتا ہے‘ پندرہ سال کی عمر میں کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس کام کا ماہر ہوتا چلا گیا‘ پندرہ سال قبل والد جگر کے عارضے کا شکار ہو گیا‘ انہیں ہیپاٹائیٹس سی ہوا اور وائرس آہستہ آہستہ ان کا جگر کھانے لگا‘عاطف نے یہ 15 برس ہسپتالوں اور کلینکس میں گزارے یہاں تک کہ ”لیورٹرانسپلانٹ“ کے علاوہ کوئی آپشن نہ بچا‘ والد کو لیور کی ضرورت تھی‘جگرمل جاتا تو والد


بچ جاتے ورنہ عاطف عین جوانی میں یتیم ہو جاتا۔عاطف خاندان اور کاروبار کا واحد سہارا تھا‘ اس نے اس مشکل وقت میں عجیب فیصلہ کیا‘ اس نے والد کو اپنا جگر ”ڈونیٹ“ کرنے کا اعلان کر دیا‘ والد نے بھی اسے منع کیا اور ڈاکٹروں نے بھی سمجھایا مگر یہ باز نہ آیا‘ یہ اس کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا‘ ڈاکٹرز اسے سمجھاتے رہے ”لیور ٹرانسپلانٹ“ کے دوران بعض اوقات جگر دینے اور لینے والے دونوں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں‘ تم ابھی جوان ہو‘ دوبارہ سوچ لو مگر اس کا ارادہ اٹل تھا‘ آپریشن سے چند دن قبل اس کے ذہن میں ایک آوارہ خیال آیا‘ میں اور میرا والد اگر دونوں ہسپتال سے زندہ واپس نہ آئے تو میری ماں کا کیا بنے گا؟ اس خیال نے اس کا ارادہ کم زور کر دیا مگر پھر اس کے بقول اس نے میرا ایک کالم پڑھا اور یہ اندر اور باہر دونوں محاذوں پر مضبوط ہو گیا‘ آپریشن مشکل بھی تھا اور مہنگا بھی‘ پچاس لاکھ روپے خرچ ہوئے‘ یہ رقم اس نے بڑی مشکل سے جمع کی‘ اسلام آباد میں قائداعظم انٹرنیشنل ہاسپٹل میں ڈاکٹرفیصل سعود ڈار لیور ٹرانسپلانٹ کرتے ہیں‘ یہ ایک طویل اور تکلیف دہ عمل ہوتا ہے‘ دونوں مریضوں کا پیٹ سینے تک کھولا جاتا ہے پھر صحت مند جگر کا بڑا ٹکڑا کاٹ کر ضرورت مند کو لگا دیا جاتا ہے‘ آپریشن کے دوران دونوں مریض زندگی کی حد سے نکل کر موت کی وادی میں پہنچ چکے ہوتے ہیں‘گیارہ بارہ گھنٹوں کے آپریشن کے بعد دونوں کو آئی سی یو میں شفٹ کر دیا جاتا ہے‘ اللہ کا کرم ہو تو پہلے ایک مریض اور پھر دوسرا مریض آنکھ کھول دیتا ہے اور بعض اوقات دونوں بے ہوشی ہی میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔آپریشن کے بعد مریضوں کی بحالی میں سال چھ ماہ لگ جاتے ہیں تاہم لیور ٹرانسپلانٹ کرانے والے شخص کو پوری زندگی ادویات کھانی پڑتی ہیں‘ یہ ادویات”ری جیکسن میڈی سنز“ کہلاتی ہیں اور یہ مریض کے ”امیون سسٹم“ کو سلو کر دیتی ہیں کیوں کہ اگر قوت مدافعت مضبوط ہو جائے تو اسے پتا چل جاتا ہے یہ جگر ادھار کی پراپرٹی ہے اور یہ اسے تباہ کرنا شروع کر دیتی ہے لہٰذا قوت مدافعت کو دھوکا دینے کے لیے امیون سسٹم سلو کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مریض آئے روز کسی نہ کسی ایشو کا شکار رہتا ہے جب کہ جگر دینے والے کا جگرآہستہ آہستہ دوبارہ بڑا ہو جاتا ہے لیکن میجر آپریشن کی وجہ سے اس کے پیٹ اور سینے میں مسلسل درد ہوتا رہتا ہے۔یہ بھاگ دوڑ بھی نہیں سکتا اور زیادہ دیر تک بیٹھ بھی نہیں سکتا‘ عاطف کے کیس میں اللہ نے خصوصی کرم کیا اور والد اور بیٹا دونوں موت کی آخری حد چھو کر واپس آ گئے‘ آج اس کے والد صحت مند ہیں اور عاطف کی زندگی بھی دوبارہ ٹریک پر آ چکی ہے لیکن آپریشن کی ہول ناک یادیں آج بھی اس کی زندگی کا حصہ ہیں اور یہ یادیں انتقال کے بعد بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎