منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر اے پی سی کیساتھ ساتھ مریم نواز کے جوتوں کے چرچے جوتے کی قیمت نے عوام کو حیران و پریشان کردیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ روزاپوزیشن کی اے پی سی منعقد ہوئی جس کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کی تھی ، اس کانفرنس میں تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا تھا۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کی۔مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف ، نائب صدر مریم نواز اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ان ناموں میں شامل تھے جو اے پی سی میں سرگرم شریک تھے۔نواز شریف کی تقریر کے علاوہ ، ایک اور چیز جس نے عوام کی توجہ حاصل کی ،وہ مریم نواز کی ڈریسنگ تھی۔خاص طور پر ان کے جوتے،مریم نواز نے ایک خوبصورت سبز رنگ کا جوتا پہن رکھا تھا ،جو ان پر خوب جچ رہا تھا، یہ جوتے منولو بلہینک کمپنی کے ہیںجو کہ ایک اعلیٰ درجے کی کمپنی ہے اور اپنی پرتعیش ایڑیوں کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔کمپنی کے مطابق اس کی قیمت 1315 ڈالر ہے یعنی217,701 پاکستانی روپے،واضح رہے اس کمپنی کے مالک منولو بلہینک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے بہترین جوتی ڈیزائنرز میں سے ایک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…