جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

جو عدالت کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا،وہ سوال پوچھ رہا ہے، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس ٹھیک ہو گئے ہیں تو واپس آ جائیں، سابق وزیراعظم کو خصوصی پیغام

datetime 20  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)اپوزیشن کی اے پی سی کے حوالے سے حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ اے پی سی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، نوازشریف کی صحت اگر ٹھیک ہے تو وہ پاکستان واپس آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔ اپوزیشن کی اے پی سی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ابو بچاؤ مہم کی اور قسط فلاپ ہو گئی، میڈیا کی آزادی کا اس سے

بڑہ کر کیا ثبوت ہو گا کہ نواز شریف کی تقریر براہ راست دکھائی گئی، وہ کہتے ہیں 33 سال ملک میں آمریت رہی لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پندرہ سال وہ خود اس سسٹم کا حصہ رہ کر کٹھ پتلی کے طور پر خدمات سرانجام دیں، ان کی تقریر کا نکتہ یہ ہے کہ اگر میں حکومت میں ہوں تو سب ٹھیک ہے، اور اگر حکومت میں نہیں ہوں تو ناقابل قبول ہے۔پی ٹی آئی رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جب بھی یہ لوگ اکھٹے ہوتے ہیں تو ہمیں فائدہ ہوتا ہے، نوازشریف کی تقریر سے ثابت ہوا کہ وہ صحتمند ہیں، وہ توانا اور خوبصورت لگ رہے تھے، تاہم انہوں نے بہت بہکی بہکی باتیں کیں، اپوزیشن اینٹی منی لانڈرنگ بل پر نہیں مان رہے تھے، عمران خان نے اپوزیشن سے معاہدے پر نہ کردی، فیٹف بل کی منظوری اور وزیراعظم کے انکار کی ان کو تکلیف ہے۔فیصل جاوید نے کہا کہ ڈاکٹرز نے نوازشریف کو پہلے یہ کہا تھا کہ صبح، دوپہر، شام تین وقت سلفییاں لینی ہیں اور شاید اب یہ ہدایت دی ہے کہ ویڈیو لنک آزمائیں افاقہ ہوگا، ڈاکٹرز یہ بھی کہہ دیں کہ اب آپ بالکل ٹھیک ہیں اور پاکستان جاکر ہی اے پی سی کرلیں۔وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ نوازشریف آج بھی پرچی سے دیکھ کر پڑھ رہے تھے، وہ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ مجھے کیوں نکالا، انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ان سے ہے جو عمران خان کو لے کر آئے، عمران خان کو تو عوام لے کر آئے ہیں، اے پی سی میں احمقانہ باتیں کی گئیں، تمام اداروں سیل ڑائی لڑی

گئی جو عدالت کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا،وہ سوال پوچھ رہا ہے، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس ٹھیک ہو گئے ہیں تو واپس آ جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…