ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

جو عدالت کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا،وہ سوال پوچھ رہا ہے، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس ٹھیک ہو گئے ہیں تو واپس آ جائیں، سابق وزیراعظم کو خصوصی پیغام

datetime 20  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)اپوزیشن کی اے پی سی کے حوالے سے حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ اے پی سی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، نوازشریف کی صحت اگر ٹھیک ہے تو وہ پاکستان واپس آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔ اپوزیشن کی اے پی سی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ابو بچاؤ مہم کی اور قسط فلاپ ہو گئی، میڈیا کی آزادی کا اس سے

بڑہ کر کیا ثبوت ہو گا کہ نواز شریف کی تقریر براہ راست دکھائی گئی، وہ کہتے ہیں 33 سال ملک میں آمریت رہی لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پندرہ سال وہ خود اس سسٹم کا حصہ رہ کر کٹھ پتلی کے طور پر خدمات سرانجام دیں، ان کی تقریر کا نکتہ یہ ہے کہ اگر میں حکومت میں ہوں تو سب ٹھیک ہے، اور اگر حکومت میں نہیں ہوں تو ناقابل قبول ہے۔پی ٹی آئی رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جب بھی یہ لوگ اکھٹے ہوتے ہیں تو ہمیں فائدہ ہوتا ہے، نوازشریف کی تقریر سے ثابت ہوا کہ وہ صحتمند ہیں، وہ توانا اور خوبصورت لگ رہے تھے، تاہم انہوں نے بہت بہکی بہکی باتیں کیں، اپوزیشن اینٹی منی لانڈرنگ بل پر نہیں مان رہے تھے، عمران خان نے اپوزیشن سے معاہدے پر نہ کردی، فیٹف بل کی منظوری اور وزیراعظم کے انکار کی ان کو تکلیف ہے۔فیصل جاوید نے کہا کہ ڈاکٹرز نے نوازشریف کو پہلے یہ کہا تھا کہ صبح، دوپہر، شام تین وقت سلفییاں لینی ہیں اور شاید اب یہ ہدایت دی ہے کہ ویڈیو لنک آزمائیں افاقہ ہوگا، ڈاکٹرز یہ بھی کہہ دیں کہ اب آپ بالکل ٹھیک ہیں اور پاکستان جاکر ہی اے پی سی کرلیں۔وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ نوازشریف آج بھی پرچی سے دیکھ کر پڑھ رہے تھے، وہ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ مجھے کیوں نکالا، انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ان سے ہے جو عمران خان کو لے کر آئے، عمران خان کو تو عوام لے کر آئے ہیں، اے پی سی میں احمقانہ باتیں کی گئیں، تمام اداروں سیل ڑائی لڑی

گئی جو عدالت کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا،وہ سوال پوچھ رہا ہے، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس ٹھیک ہو گئے ہیں تو واپس آ جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…