جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جو عدالت کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا،وہ سوال پوچھ رہا ہے، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس ٹھیک ہو گئے ہیں تو واپس آ جائیں، سابق وزیراعظم کو خصوصی پیغام

datetime 20  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)اپوزیشن کی اے پی سی کے حوالے سے حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ اے پی سی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، نوازشریف کی صحت اگر ٹھیک ہے تو وہ پاکستان واپس آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔ اپوزیشن کی اے پی سی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ابو بچاؤ مہم کی اور قسط فلاپ ہو گئی، میڈیا کی آزادی کا اس سے

بڑہ کر کیا ثبوت ہو گا کہ نواز شریف کی تقریر براہ راست دکھائی گئی، وہ کہتے ہیں 33 سال ملک میں آمریت رہی لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پندرہ سال وہ خود اس سسٹم کا حصہ رہ کر کٹھ پتلی کے طور پر خدمات سرانجام دیں، ان کی تقریر کا نکتہ یہ ہے کہ اگر میں حکومت میں ہوں تو سب ٹھیک ہے، اور اگر حکومت میں نہیں ہوں تو ناقابل قبول ہے۔پی ٹی آئی رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جب بھی یہ لوگ اکھٹے ہوتے ہیں تو ہمیں فائدہ ہوتا ہے، نوازشریف کی تقریر سے ثابت ہوا کہ وہ صحتمند ہیں، وہ توانا اور خوبصورت لگ رہے تھے، تاہم انہوں نے بہت بہکی بہکی باتیں کیں، اپوزیشن اینٹی منی لانڈرنگ بل پر نہیں مان رہے تھے، عمران خان نے اپوزیشن سے معاہدے پر نہ کردی، فیٹف بل کی منظوری اور وزیراعظم کے انکار کی ان کو تکلیف ہے۔فیصل جاوید نے کہا کہ ڈاکٹرز نے نوازشریف کو پہلے یہ کہا تھا کہ صبح، دوپہر، شام تین وقت سلفییاں لینی ہیں اور شاید اب یہ ہدایت دی ہے کہ ویڈیو لنک آزمائیں افاقہ ہوگا، ڈاکٹرز یہ بھی کہہ دیں کہ اب آپ بالکل ٹھیک ہیں اور پاکستان جاکر ہی اے پی سی کرلیں۔وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ نوازشریف آج بھی پرچی سے دیکھ کر پڑھ رہے تھے، وہ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ مجھے کیوں نکالا، انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ان سے ہے جو عمران خان کو لے کر آئے، عمران خان کو تو عوام لے کر آئے ہیں، اے پی سی میں احمقانہ باتیں کی گئیں، تمام اداروں سیل ڑائی لڑی

گئی جو عدالت کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا،وہ سوال پوچھ رہا ہے، نوازشریف کے پلیٹ لیٹس ٹھیک ہو گئے ہیں تو واپس آ جائیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…