ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

مروہ کیس میں انتہائی اہم پیشرفت گرفتار ملزمان کے DNA میچ ہوگئے،ملزمان ساری رات مہ نوشی میں لت ہوتے رہے اور پھر ۔۔۔ آنکھیں نم کر دینے والی تفصیلات

datetime 20  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)شہرقائد میں 5سالہ مروہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے، ملزمان فیض اور عبداللہ کا ڈی این اے میچ کرگیا، ملزمان نے نشے کی حالت میں بچی کی آبروریزی کی۔تفصیلات کے مطابق مروہ کیس میں ملوث دو ملزمان فیض اور عبداللہ کا ڈی این اے میچ کرگیا جبکہ ملزم نواز تفتیش میں بے قصور ثابت ہوا ہے، تصدیق کے لیے 34 افراد کے

ڈی این اے سیمپل لیے گئے تھے۔ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 100کے قریب گھروں کو چیک کیا، 34 افراد کے ڈی این اے لیے گئے، تفتیش میں مختلف باتیں اور لوگ سامنے آتے رہے، فیض عرف فیضو اور عبداللہ افغانی کے ڈی این رپورٹ کی تصدیق ہوئی، دونوں کے فنگر پرنٹ بچی کی لاش سے ملے کپڑوں سے بھی میچ ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ فارنزک ڈویژن نے ملزمان کے ڈی این اے میچ ہونے کی تصدیق کی ہے، ملزمان کے نمونے مروہ کے کپڑوں سے حاصل کئے گئے تھے۔نعمان صدیقی نے بتایاکہ پولیس کے لیے یہ ایک چیلنجنگ کیس تھا، فیض علاقے سے غائب ہوگیا تھا، فیض نے ایک دوست سے فون پر بھاگنے میں مدد لی، دوست نے سمجھایا کہ کچھ نہیں کیا تو بھاگنا کیوں، لاش سے ملے کپڑے پر بڑی تحقیق کی، معلوم ہوا استاد جاوید کی دکان سے کپڑا لیا گیا، جاوید نے پہچان لیا۔ڈی آئی جی ایسٹ نے کہا کہ فیض نشی ہے اور پوری رات شراب پی، صبح بچی کو اپنے گھر کی پہلی منزل پر لے جاکر آبرو ریزی کا نشانہ بنایا، فیض نے اپنے دوست عبداللہ افغانی کو بلایا، دونوں نے لاش کو کپڑے میں لپیٹا اور ٹریلر میں کچرے کے ساتھ رکھا اور پھینک آئے۔یاد رہے کہ 17 ستمبر کو گرفتار ملزمان عبداللہ اور فیضو کے فنگر پرنٹس میچ کرگئے تھے۔مروہ کیس میں گرفتار2ملزمان نے بچی سے آبروریزی کا اعتراف کیا تھا، فیض عرف فیضو نے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ میں نے اور میرے ساتھی عبداللہ نے بچی کواغواکیا، اغواکے بعدمروہ کو اپنے گھر لاکرباری باری آبروریزی کا نشانہ بنایا،آبرو ریزی کی وجہ سے مروہ کی موت ہوئی، جس کے بعد مروہ کی لاش کو کپڑے میں لپیٹ کرکچراکنڈی میں پھینک دیا۔واضح رہے کہ 5 سال کی مروہ 5 ستمبر کر اپنے گھر سے چیز لینے گئی اور لاپتہ ہوگئی تھی جس کے بعد 6 ستمبر کو اس کی لاش پرانی سبزی منڈی کے علاقے سے ملی تھی۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…