یہ کیسی آزادی چاہتی ہیں،انکے ماں باپ،بھائی کہاں ہیں؟ خلیل الرحمن قمر کو خواتین کے احتجاج پر تنقید مہنگی پڑ گئی ، شدید ردعمل

  ہفتہ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2020  |  13:46

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہورموٹر وے کیس کیخلاف احتجاج کرنے والی خواتین کے بارے میں تبصرہ کرنے پر معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمرپھر پھنس گئے ۔ تفصیلات کے مطابق ایک انٹرویو میں خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ یہ خواتین کس قسم کی آزادی چاہتی ہیں؟وہ پہلے ہی سڑکوں پر نکلی ہوئی ہیں اور لاہور کے لبرٹی چوک میں کھڑی ہوکر نعرے لگا رہی ہیں، میں ان کے والدین اور بھائیوں سے پوچھنا چاہتاہوں وہ کہاں ہیں؟جب یہ خواتین چیختی چلاتیں سڑکوں پر آئیں وہ سب کہاں تھے؟ان خواتین کو احتجاج کیلئے آنے سے پہلے انہیں اطلاع کرنی چاہئے تھی،کیا یہ


ایسا کرنے میں آزاد نہیں ہیں؟یہ اور کس قسم کی آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ڈرامہ نگار کی طرف سے اٹھائے گئے ان سوالات سے خواتین میں غصے کی لہر دوڑ گئی ، جن کے جواب میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک خاتون بینظیر جتوئی نے لکھا کہ مارچ کے دوران ہمارے والد ، بھائی ، شوہر اور دیگر مرد حضرات شانہ بشانہ کھڑے ہیں جس پر فخر ہے ، ہاں یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ آزادی کا مطالبہ کریں ۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ کیا یہ پاگل ہیں؟ میں بہت خوش ہوں کہ ایک مارچ کے موقع پر آپ کو بے عزت کیا گیا کیونکہ آپ ہمارے اتحادی نہیں ہیں۔یاد رہے کہ خلیل الرحمن قمر اس سے پہلے بھی اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

دعا

میرے پاؤں زمین پر گڑھ کر رہ گئے‘ میں آگے بڑھناچاہتا تھا لیکن مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم سے ساری توانائی نکل گئی اور میں نے زبردستی ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی تومیں جلے‘ سڑے اور سوکھے درخت کی طرح زمین پر آ گروں گا‘ میں چپ چاپ‘ خاموشی سے ان کے پاس ....مزید پڑھئے‎

میرے پاؤں زمین پر گڑھ کر رہ گئے‘ میں آگے بڑھناچاہتا تھا لیکن مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم سے ساری توانائی نکل گئی اور میں نے زبردستی ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی تومیں جلے‘ سڑے اور سوکھے درخت کی طرح زمین پر آ گروں گا‘ میں چپ چاپ‘ خاموشی سے ان کے پاس ....مزید پڑھئے‎