زمین کھاگئی یا آسمان؟ 28چھاپہ مار ٹیموں کوبدترین ناکامی کا سامنا موٹر وے کیس کا مرکزی ملزم عابدعلی پولیس کے ہاتھ نہ آیا

  بدھ‬‮ 16 ستمبر‬‮ 2020  |  13:36

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)موٹروے کیس کوایک ہفتہ پورا ہو گیا ہے لیکن پنجاب پولیس ابھی تک مرکزی ملزم عابد علی کو گرفتار نہیں کر سکی۔اگرچہ اب ملزم کی شناخت بھی ہو چکی ہے،اس کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ جب کہ ملزم عابد علی کا ڈی این اے بھی خاتون سے میچ کر چکا ہے متاثرہ خاتون نے ملزم کی شناخت بھی کر دی لیکن اس کے باوجود بھیپنجاب پولیس ملزم کی گرفتاری میں ناکام نظر آتی ہے۔پولیس کی 28 ٹیمیں ملزم عابد علی کی گرفتاری پر مامور ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے اہلخانہ سے


بھی تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔ ملزم عابد علی کا مزید مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے،ذرائع کے مطابق عابد فورٹ عباس میں زمینوں پر غیرقانونی قبضے کروانے میں بھی ملوث رہا ہے۔ ملزم کو متعدد بار گرفتار کیا گیا لیکن مدعی پارٹی پر دبا ئوڈال کر صلح کر لی جاتی تھی اور ملزم عدالت سے باعزت بری ہو جاتا تھا جبکہ رہا ہونے کے بعد اپنا علاقہ تبدیل کرتا اور نیا گینگ بنا کر دوبارہ سرگرم ہو جاتا۔ جبکہ اس کیس میں گرفتار تین افراد کو آج رہا کر دیا گیا ہے جبکہ شفقت حسین کی گرفتار برقرار رکھی گئی ہے ۔ دوسری جانب لاہور سیالکوٹ موٹر وے واقعہ کی متاثرہ خاتون نے گرفتاری پیش کرنے والے وقار الحسن کی شناخت سے انکار کر دیا، پولیس نے ڈی این اے کیلئے سیمپل بھی لے لئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پولیس کی جانب سے سی آئی اے ماڈل ٹاؤن میں از خود گرفتاری دینے والے ملزم وقار کی تصویر اور فوٹیج واٹس ایپ کے ذریعے متاثرہ خاتون کو شناخت کے لیے بھجوائی تاہم خاتوننے ملزم وقار کی شناخت سے انکار کر دیا تھا۔خاتون کا کہنا ہے کہ وقار واقعے میں شامل نہیں تھا۔پولیس نے جیو فینسنگ کے بعد وقار الحسن کی تصویر بطور ملزم جاری کی تھی۔مزید بتایا گیا ہے کہ گرفتار پیش کرنے والے ملزم کے ڈی این اے کیلئے سیمپل لے لئے گئے ہیں جنہیں خاتون کے ڈی این اے سے میچ کیا جائے گا اور حقائق ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کے بعدسامنے آئیں گے۔ لاہور موٹر وے کیس کی متاثرہ خاتون نے ملزم کی شناخت کر دی ہے،اس بات کا انکشاف معروف صحافی فریحہ ادریس نے کیا، انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو جب ملزم شفقت کی شناخت کروائی گئی تو انہوں نے ملزم شفقت کی تصدیق کردی۔واضح رہے کہ پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ میں مرکزی ملزم عابد کے دوست شفقتکو گرفتار کرلیا ہےجس نے واقعہ میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ شفقت نامی شخص کو دیپالپور سےگرفتار کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ از خود گرفتار ی پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن نے اپنے بیان میں شفقت نامی شخص کی نشاندہی کی تھی، وقار الحسن کے مطابق ملزم شفقت مرکزی ملزم عابد کا قریبی دوست ہے اور دونوں مل کر وارداتیں کرتے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتارملزم شفقت نے واقعے میںملوث ہونے کا اعتراف کر لیا جبکہ اس کا ڈی این اے بھی میچ ہوگیا ہے، شفقت نے دوران تفتیش انکشاف ہے کہمرکزی ملزم عابد نے شیخوپورہ میں بھی ڈکیتی کے دوران خاتون کو بے آبرو کیا لیکن اس کے خلاف صرف ڈکیتی کا مقدمہ درج ہوا، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزار اور آئی جی پنجاب انعام غنی نے بھی واقعہ کے ایک ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نےٹوئٹ پر واقعہ میں ملوث ایک ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شفقت نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے بھی ٹیمیں کوشاں ہیں اور اسے بھی جلد گرفتار کر لیا ہائے گا۔آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل وکرم، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کے سائنسی تجزیے اور تفتیش کی روشنی میں پنجاب پولیس نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے کیس کے ملزموں میںسے ایک ملزم شفقت علی ولد اللہ دتہ سکنہ ہارون آباد، ضلع بہاولنگر کو گرفتار کر لیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملزم شفقت علی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل شدہ ڈی این اے سے مطابقت رکھتا ہے۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ جس طرح پنجاب پولیس کی شبانہ روز کاوشوں سے ملزمان کی شناخت اور ملزم شفقت کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اسی طرح انشا ء اللہ مفرورملزم عابد ملہی کو بھی جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کردیا جائے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎