اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

”حکومت ایڈوائزر رکھتی ہے تو کہتی ہے یہ دنیا کے بہترین لوگ ہیں” جواب داخل نہ کرانے والے وزیر اعظم کے مشیروں کو دوبارہ نوٹس

datetime 10  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان خان کے 16 مشیر ان کی تقرر ی کیخلاف درخواست پر جواب داخل نہ کرانے والے مشیروں کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیئے جبکہ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیئے کہ حکومت ایڈوائزر رکھتی ہے تو کہتی ہے کہ یہ دنیا کے بہترین لوگ ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے وزیر اعظم کے 16مشیران کے تقرر کیخلاف درخواست پر سماعت کی ۔وزیراعظم عمران خان،شہزاد اکبر ،سید شہزاد قاسم،شہزاد ارباب اور وزارت قانون نے جواب داخل کرا دیا جبکہ عبد الحفیظ شیخ کے وکیل کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لئے مہلت مانگی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا ۔فاضل عدالت نے جواب جمع نہ کروانے والے عبدالرزاق دائود، امین اسلم ،ڈاکٹر عشرت حسین ، ڈاکٹر بابر اعوان ،ڈاکٹر ظفر مرزا، معید یوسف، زلفی بخاری ،ثانیہ نشتڑ،ندیم افضل چن اور شہباز گل کو دوبارہ نوٹسز جاری کردیئے اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو عدالتی حکم کی تعمیل کرانے کا حکم دے دیا۔وزیراعظم کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ مشیر خاص رکھنا وزیراعظم کا اختیار ہے ،تمام مشیروں کی تقرریاںآئین اور قانون کے مطابق ہیں۔شہزاد اکبر کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں موقف اپنایا گیا کہ اسلام ہائیکورٹ نے ان کا تقرر قانونی قرار دے دیا ہے۔

اس لیے درخواست ناقابل سماعت اور بے بنیاد ہے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے باور کرایا کہ جب حکومت ایڈوائزر رکھتی تو کہتی ہے کہ یہ دنیا کے بہترین لوگ ہیں،تانیہ اندولس پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرتی رہیں ،جب تانیہ اندولس کے

حقائق سامنے آئے تو بیگ اٹھاکر واپس چلی گئیں۔ فاضل چیف جسٹس قاسم خان نے باور کرایا کہ میڈیا کے مطابق عبدالحفیظ شیخ کے اکاوئنٹ میں 25ہزار روپے ہیں اور ایک بیگ ہے ۔چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ جواب نہ دینے والے مشیروں کا اخبار میں اشتہار جاری کردیں۔

وزیراعظم کو احکامات جاری کریں کہ مشیروں کو کہیں جواب دیں۔فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے وکلا ء نے چیمبر میں آکر رونا ہے کہ پرنسپل سیکرٹری کو نہ بلوائیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…