اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان نے لیڈی ڈیانا اور ڈاکٹر حسنات کے درمیان کس بات کی کوشش کی تھی؟ لیڈی ڈیانا کس کی محبت میں اپنا ملک چھوڑنے پر آمادہ تھیں؟ حیران کن انکشافات

datetime 14  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )برطانوی شہزادی ڈیانا نے جمائمہ گولڈ سمتھ کے ساتھ پاکستان منتقل ہونے کے بارے میں طویل گفتگو کی۔کیونکہ وہ اپنی محبت ہارٹ سرجن حسنات خان سے شادی کرنے اور ان کے آبائی وطن منتقل ہونے کا سوچ رہی تھی۔برطانوی اخبار کے مطابق شہزادی ڈیانا کی زندگی پر بننے والی نئی دستاویزی فلم میں شاہی امور کے ماہر ایو پولارڈ نے دعوی کیا ہے کہ پرنس آف ویلز نے پاکستان منتقل ہونے

کے بارے میں طویل گفتگو کی تھی۔جمائمہ نے پاکستانی لیجنڈ کرکٹر عمران خان سے شادی کی اور 9 سال پاکستان میں گزارے۔ ایو پولارڈ نے مزید کہا کہ ویلز کی شہزادی ڈیانا کی پاکستانی نژاد ڈاکٹر سے شادی اور وہاں منتقل ہونے کے خیال کے بارے میں ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا۔ لیڈی ڈیانا کا پاکستان آنے کا اصل مقصد ان کی محبت تھی۔وہ پاکستانی نژاد ڈاکٹر حسنات سے محبت کرتی تھیں، لیڈی ڈیانا ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔لیڈیا ڈیانا ڈاکٹر حسنات کے عشق میں مبتلا ہو کر پاکستان آئیں۔وہ ڈاکٹر حسنات کی والدہ سے بھی ملیں۔وہ ماڈل ٹان میں ڈاکٹر حسنات کی والدہ کے پاس کئی گھنٹے تک بیٹھی رہیں اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس زمانے میں لوڈ شیڈنگ بھی ہوتی تھی اور انہوں نے وہ بھی برداشت کی۔ تاہم ڈاکٹر حسنات لیڈی ڈیانا سے شادی کے لیے رضا مند نہیں تھے جس پر عمران خان نے دونوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنیکا فیصلہ کیا۔عمران خان کی کوشش تھی کہ ان دونوں کی شادی ہو جائے،عمران خان نے انہیں کہا کہ لیڈی ڈیانا نفیس خاتون ہیں آپ ان سے شادی کر لیں تاہم وہ اپنے مشن میں ناکام رہے۔عارف نظامی نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں اس طرح کی باتیں نہیں کی جاتیں تاہم لیڈی ڈیانا کی محبت کے بارے میں برطانوی میڈیا میں بھی خبریں چھپ چکی ہیں۔ برطانوی شہزادی ڈیانا نے جمائمہ گولڈ سمتھ کے ساتھ پاکستان منتقل ہونے کے بارے میں طویل گفتگو کی۔کیونکہ وہ اپنی محبت ہارٹ سرجن حسنات خان سے شادی کرنے اور ان کے آبائی وطن منتقل ہونے کا سوچ رہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…