لیگی کارکن ایوب بھٹہ سے دانستہ طور پر اعترافی بیان دلوایا گیا، ن لیگ کا حکومت پر الزام

  بدھ‬‮ 12 اگست‬‮ 2020  |  18:46

لاہور (آن لائن) سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی منگل کے روز نیب آفس پیشی کے موقع پر پولیس اور ن لیگی کارکنوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں استعمال ہونے والے پتھرؤں کو نیب آفس تک پہنچانے کے الزام میں ملوث پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی ایم پی اے مرزا محمد جاوید رو پوش ہوگئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں ن لیگی ذرائع کا کہنا یہ کہ ایم پی اے مرزا محمد جاوید گرفتارسے بچنے کے لئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی ہدایات پر رو پوش ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان


مسلم لیگ (ن) پنجاب کی قیادت نے مرزا محمد جاوید پر پتھر لے جانے کا الزام عائد کرنے والے پارٹی کے متوالے ایوب بھٹہ کے خلاف انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی خواجہ عمران نذیر کا کہنا کہ ایک سازش کے تحت مرزا محمد جاوید پر پتھر لے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حکومت نے (ن) لیگی کارکن ایوب بھٹہ سے دانستہ طور پر اس معاملے کا اعترافی بیان دلوایا ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سفید رنگ کے شاپرز میں بغیر تصدیق کے پتھر رکھنے کا بیان جاری کیا گیا۔ یہ شاپرز کس مقام پر رکھے گئے حکومت کے پاس اس کی بھی کوئی تصدیق نہیں۔ خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے ہی ایوب بھٹہ کے کردار پر شک تھا لہٰذا اب وہ انکوائری کر کے تمام معاملات کی چھان بین کریں گے۔  سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی منگل کے روز نیب آفس پیشی کے موقع پر پولیس اور ن لیگی کارکنوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں استعمال ہونے والے پتھرؤں کو نیب آفس تک پہنچانے کے الزام میں ملوث پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی ایم پی اے مرزا محمد جاوید رو پوش ہوگئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں ن لیگی ذرائع کا کہنا یہ کہ ایم پی اے مرزا محمد جاوید گرفتار سے بچنے کے لئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی ہدایات پر رو پوش ہوئے ہیں


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎