بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ملائیشیاء اور گلف ممالک کیلئے لیبر کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا سے جاتی ہے ، پی آئی اے سے پشاور اور کوئٹہ سے فی الفور سروس شروع کرنے کا مطالبہ

datetime 12  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن) وزیر مملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا ہے کہ ملائیشیاء اور گلف ممالک کے لئے افرادی قوت کی بڑی تعداد صوبہ خیبر پختونخوا سے جاتی ہے مگر پی آئی اے ان مسافروں کو کراچی آنے پر مجبور کرتی ہے جہاں سے انہیں دوسرے ممالک لے جایا جاتا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن پشاور اور کوئٹہ سے فی الفور سروس شروع کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے

قواعد وضوابط کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد وضوابط کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رانا قاسم نون کی سربراہی میں اجلاس پارلیمنٹ ہاوس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان کے علاوہ مختلف محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اراکین کمیٹی کی جانب سے ائیر ٹکٹ کا معاملہ اٹھایا گیا اراکین کمیٹی کا کہناتھا کہ وہ پارلیمنٹ کی کاروائی کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔ان کو پی آئی اے کے ٹکٹ فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ پی آئی اے نے بہت سے اسٹاپ ختم کر دئیے ہیں ان کی فیملی کو بھی اضائی ٹکٹ فراہم کیے جائیں وزیر مملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا میڈیا میں آیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کیلئے مزید مراعات دی جا رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اسی بجٹ میں ہی ان کے خاندان کو بھی ٹکٹ فراہم کیے جائیں گے اراکین کمیٹی فنانس سے مزید کوئی مراعات نہیں مانگ رہی اراکین کمیٹی کا کہناتھا کہ پی آ ئی اے نے پشاور اور ملتان کا روٹ ہی ختم کر دیا ہے اس لیئے دوسری فضائی کمپنیوں کیلئے ہمیں ووچر فراہم کیے جائیں جس پر وزیر مملکت علی محمد خان کا کہناتھا کہ پی آئی اے قومی کمپنی ہے اسے ترجیح دی جائے۔فضائی کمپنی کے حکام کا کہنا تھا کہ کرونا کی وجہ سے روٹ بند کیے تھے اب ملتان کوئٹہ روٹ اوپن کر دیا گیا ہے جبکہ پشاور اگلے ہفتے کھول دیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں چیف ایگزیکٹو ، چیف کمرشل آفیسر سمیت اعلی حکام کو طلب کر لیا کمیٹی نے تمام اعلی حکام کی تنخواہوں ، مراعات نئی بھرتی سمیت دیگر تفصیلات بھی طلب کر لی۔ اجلاس میں رکن اسمبلی اسامہ قادری ، شاہدہ رحمانی نے جا سے مارنے کی دھمکیوںاور سیکورٹی سے متعلق خدشات کے متعلق کمیٹی کو اگلے اجلاس میں وزارت داخلہ کے اعلی حکام آئی جی سندھ پو لیس کے علاوہ ہوم سیکرٹریز کو طلب کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…