منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

سیاحتی مقامات پر رش، لاک ڈائون ختم ہوتے ہی سیاحوں کی بڑی تعداد گھروں سے نکل پڑی

datetime 10  اگست‬‮  2020 |

گلگت (این این آئی)لاک ڈاون ختم ہوتے ہی ملک بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد گلگت بلتستان کے خوبصورت اور دلکش مقاماتِ دیکھنے کے لئے پہنچ گئی۔جن مقامات میں سب سے زیادہ رش دیکھنے میں آ یا، ان میں گلگت سے پینتیس کلومیٹر دوری پر واقع دلکش وادی نلتر بالا،ہنزہ،راما استور، دیوسائی، منی مرگ، چلم استور، بلتستان ڈویژن میں کچورہ لیک،شگر فورٹ جبکہ ضلع غذر میں وادی پھنڈر، شندوراور ضلع دیامر

میں فیری میڈوز شامل ہیں۔ نگران مشیر اطلاعات، سیاحت، ثقافت و امور نوجوانان گلگت بلتستان ثمینہ بیگ نے کہا گلگت بلتستان میں ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے تمام سیاحتی مقامات اور سیاحوں کو گلگت بلتستان میں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سیاحتی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کی موجودہ صورتحال بھی دگرگوں ہے مگر معیشت کا بھی خیال رکھنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے, اگر معیشت بیٹھ گئی تو یہ ایک سنگین صورت حال اختیار کرے گی.انہوں نے کہا ہے کہ ہوٹل انڈسٹری کو بھی اس عالمی وبا کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایس او پیز پہ عمل درآمد کراتے ہوئے عوام اور سیاحوں کو گلگت بلتستان میں داخل کرائیں گے تو ہمارے علاقے کو ملی طور پر بھی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ باقی ممالک میں بھی ایس او پیز پرعمل کرتے ہوئے تمام کاروباری نظام کو بحال کیا گیا ہے ہمیں بھی اس عمل سے گزرنا ہوگا مشیر اطلاعات گلگت بلتستان ثمینہ بیگ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع تر مواقع موجود ہیں تاہم کرونا وبا کی وجہ سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوا، حکومت کی کوشش ہے کہ سیاحت کو دوبارہ بحال کرے تاکہ علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ سے شروع ہوں،اسی لئے کنٹرولڈ ٹورازم کے تحت ایس او پیز بنائے گئے ہیں تاکہ سیاح اور مقامی لوگ دونوں اس وبا سے محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ ایس او پیز کا خیال رکھیں تاکہ یہ شعبہ مزید متاثر نہ ہو اور سیاح بھی محفوظ رہ سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…